لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب بھر میں بسنت منانے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب کے اسپیشل سیکرٹری کو ساڑھے بارہ بجے طلب کر لیا گیا۔
لاہورہائیکورٹ میں پنجاب بھرمیں بسنت منانے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،کیس کی سماعت جسٹس ملک محمد اویس خالد نےکی،دورانِ سماعت عدالت نےاستفسارکیا کہ کیااسپیشل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟ جس پر لاء افسر نے بتایا کہ وہ ابھی نہیں آئے، جواب تیار ہے اور اسپیشل سیکرٹری نے پیش ہونے کے لیے تھوڑی سی مہلت کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نےمؤقف اختیارکیا کہ پنجاب حکومت نے بسنت تہوار منانے کے لیےباقاعدہ قانون بنایا ہے،جبکہ قانون پورےصوبے کےلیےبنایا جاتا ہےنہ کہ کسی مخصوص شہر کےلیے،درخواست گزار کے مطابق حکومت نے خود ہی ایکٹ منظور کیا اور اسے منتخب علاقوں میں نافذ کر دیا۔
وکیل نےمزیدکہا کہ قانون کا اطلاق پورے پنجاب میں کرنے کےبجائے صرف لاہورشہر تک محدودکیاگیا ہے، جس کےنتیجےمیں صوبے کےدیگر شہروں کےشہری بسنت منانے کےحق سےمحروم ہیں،صرف لاہوریوں کو بسنت منانے کی اجازت دینا صوبے کے دیگر شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست گزار کے مطابق بسنت کو صرف لاہور تک محدود کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ بسنت تہوار پورے پنجاب میں منانے کا حکم دیا جائے۔






















