وزیرتوانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر صارفین کی منتقلی کے فیصلے پرعمل درآمد روک دیا ہے جبکہ صنعتی صارفین کے لئے بجلی سستی کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ہم نے 780 ارب کا گردشی قرضہ کم کیا ہے، نیٹ میٹرنگ سے گردشی قرضہ،بجلی چوری اور دیگر کا کیا تعلق ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئی پی پیز کو عدالتوں میں جانے کا موقع دیا، ہم آئی پی پیز ریٹس نیچے لائے،نظرثانی معاہدے سے 3400 ارب کا فائدہ ہوا۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس وقت حکومت کو 8 روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے، کیا نیٹ میٹرنگ سے 27 روپے یونٹ بجلی خریدنا درست ہے؟ 3 کروڑ 50 لاکھ صارفین تو نیٹ میٹرنگ پر نہیں ہیں، یہ کسی بھی طرح عوام دوست پالیسی نہیں ہے۔ جن کو اعتراض ہے وہ مختلف کٹیگریز کے لوگ ہیں۔
وزیرتوانائی نے کہا کہ اس وقت سولر کا حجم 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے، مجموعی حجم میں سے 6 ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ پر ہے، 7 ہزار میگاوٹ صنعتی اور 4 ہزار میگاواٹ کمرشل صارف ہیں۔ 12 سے 14 ہزار میگا واٹ کا نیٹ میٹرنگ سے تعلق ہے، 7 لاکھ کے قریب بجلی کے صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے تمام بڑے سیکٹرز میں سولر پلیٹیں لگی ہوئی ہیں، بڑے سیکٹرز کے سولر صارفین کی اکثریت نیٹ میٹرنگ پر ہے، ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 سے 10 فیصد نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔




















