بنگلا دیش کے عام انتخابات میں ووٹنگ کا عمل ختم ہوگیا،300 میں سے 299 انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے، انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں شریک ہیں، 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کیا،ووٹنگ کا عمل صبح ساڑھے 6 بجے سے ساڑھے 3بجے تک جاری رہا۔
حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں،عام انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم بھی ہوگا،ووٹرز دو بیلیٹ پیپر پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا،سفید بیلٹ پیپرپر اپنے حلقے کا نمائندہ چننے کیلئے ووٹ ڈالے، گلابی بیلٹ پیپر پر جولائی نیشنل چارٹر کی حمایت میں ووٹ کاسٹ ہوئے۔
بنگلا دیشی میڈیا کےمطابق 64 اضلاع میں 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز قائم کیےگئے، 1981 امیدواروں میں سے 249 امیدوار آزاد الیکشن لڑا،ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18برس اور الیکشن لڑنے کی 25 برس ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق بنگلادیش کے عام انتخابات میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے،44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 برس کے درمیان ہے، 45 لاکھ 70 ہزار نوجوان نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
بنگلا دیش کےچیف الیکشن کمشنر کا عوام کے نام پیغام میں کہا آج کے انتخابات بنگلا دیش کی تاریخ کے نہایت اہم ترین انتخابات ہیں،سیاسی جماعتیں،امیدوار اور ووٹرز ذمہ داری کامظاہرہ کریں،جمہوریت میں رائے کا اختلاف ایک فطری بات ہے،خوشی اور جوش کے ماحول میں پولنگ اسٹیشنوں پر آئیں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں،جمہوری عمل کے طور پر انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار رہیں
جولائی نیشنل چارٹر میں 32 جماعتوں نے آئینی اصلاحات کا مشترکہ ایجنڈا پیش کیا تھا، ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ ملتوی کی گئی۔




















