ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے روک دیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکی،جس میں وفاقی حکومت کی اپیلوں پرغورکیاگیا۔
وفاقی حکومت کےمطابق درخواست میں ترمیم عدالتی اختیارات سےتجاوز اورطے شدہ مقدمات کی حتمیت کےمنافی ہےجبکہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئےمعاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔
وفاق نےمؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سےجڑا ہے،ترمیم شدہ درخواست میں رہائی اور وطن واپسی کے لیےحکومتی اقدامات کو آئینی ذمہ داری قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
وفاق نے 16 مئی 2025 کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئےدرخواست میں ترمیم کی اجازت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی،یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرِاعظم اور کابینہ سے امریکا میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔
عدالت نےوزیرِاعظم اوروفاقی وزرا کےخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو روکتے ہوئے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور سماعت ملتوی کر دی۔





















