پاکستان ریفارمز کی دوسری ادارہ جاتی اصلاحاتی رپورٹ جاری کردیا گیا۔ گزشتہ سال 135 سے زائد وفاقی اداروں میں 600 اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔ الیکٹرونک جرائم ترمیمی ایکٹ دو ہزار پچیس کے ذریعے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل احتساب مضبوط بنایاگیا۔ دفاعی پنشن کے نظام میں ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔
توانائی شعبے میں اصلاحات سے 1.4 کھرب روپے سے زائد کی طویل مدتی بچت ممکن ہوئی۔ گورننس کے نظام کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے لئے ڈیجیٹل گورننس کیلئے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
دفاعی پنشن کے نظام میں ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔ پاک بحریہ اور فضائیہ کے تمام پنشنرز کو بینک ادائیگی سے منسلک کیا گیا۔ پاک فوج کے 92 فیصد پنشنرز بھی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں شامل کئے گئے۔
ریکوڈک منصوبے میں بھی 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جانب عملی پیش رفت سامنے آئی۔ دیگر اداروں کی طرح ایف بی آر ریفارمز، تیل اور گیس کی فیلڈ میں اصلاحات، گیمنگ اور اینیمیشن قومی مرکز سمیت دیگر شعبوں کا بھی رپورٹ میں احاطہ کیا گیا۔





















