وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دہشت گرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں، ہم انہیں بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے۔
وزیردفاع خواجہ آصف نےپارلیمنٹ ہاوس کےباہرمیڈیا سےگفتگو میں کہابلوچستان میں 2 روزقبل سیکورٹی فورسز نےبھرپور کارروائی کی،امن دشمن 170 لاشیں چھوڑکربھاگ گئے،آئندہ بھی منہ توڑجواب دیں گے، افغانسان اور بھارت بلوچستان میں متحرک ہوگئے،بھارت پراکسیز کے ذریعےاپنی شکست کابدلہ لینا چاہتا ہے،اس محاذپربھارت اور افغانستان کےخلاف لڑ رہے ہیں،یہاں بھی شکست دیں گے،کلبھوشن یادیو ہمارے پاس ایک بہت بڑی شہادت ہے،بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد افغانستان کےایجنٹ ہیں،یہ لوگ ریاست کوبلیک میل کرناچاہتے ہیں،جوعناصرہمارے دشمن ہیں،یہ انہی کے ایجنٹ ہیں،دشمنوں کی پشت پناہی سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نےکہااللہ کرے بلوچستان میں منتخب لیڈر اور اکابرین ملکر دہشتگردی کا مقابلہ کریں،اکابرین کےتحفظات مقامی قیادت دور کرے،وفاق اپنا کردار کرے گا،دہشت گردوں سے بات کرنے کا مطلب غیرقانونی اورغیر انسانی اقدام کا تحفظ ہوگا،ٹرینیں اورگاڑیاں روک کر لوگوں کو مارنے والوں سے کون بات کرے گا؟اگر وہ آئرلینڈ کی طرح پاکستان کےجھنڈے تلے آتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے،یہ پاکستان کی وحدت کا معاملہ ہے، وہ ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں،بلوچ لیڈر دہلی میں بیٹھے ہیں،وہاں کے اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں،وطن دشمنوں سے دوستی کرنے والوں سے دشمنوں جیسا ساتھ سلوک ہوتا ہے،پاکستان ان کے ساتھ بھی وہی کرے گا جو دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
خواجہ آصف نےمزید کہابھارت اورافغانستان ہمارےدشمن ہیں،اگر دہشت گرددشمنوں کا ایجنٹ بنتے ہیں توکون مذاکرات کرےگا،بلوچستان میں امن ہوگا،صوبے میں ترقی ہوئی،وسائل پرانکاحق ہے،بلوچستان میں اسپتال بنے،سڑکیں 500 سے 26 ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئیں،مقامی وسائل پر بلوچ عوام کا ہی حق ہے،جمہوریت بھی انکاحق ہے،افغانستان کی اسپانسرڈ فورس استعمال ہورہی ہےتوہم بھی جواب دے رہے ہیں
وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہا ہے کہ اللہ کرے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعظم کی ملاقات کے مثبت نتائج نکلیں،دعا ہے اور کوشش بھی کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا عوام کی سیاست کرے، اگر صوبائی حکومت صوبے کے عوام کے حق میں بات کرے تو کوئی اختلاف نہیں۔





















