سینیٹ کے اجلاس میں رانا ثناء اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دہشتگرد گرفتار ہوئے ہیں ان سے تفتیش کے بعد معاملہ آگے بڑھایا جائے گا، ناراض بول کر دہشتگردوں کے خلاف موقف میں ابہام پیدا کیا جاتا ہے ، ایسے ابہام سے دہشتگردوں کو تقویت ملتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق رانا ثنااللہ کا کہناتھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد قومی یکجہتی پیدا کر کے ضرب عضب ہوا، ضرب عضب کے بعد دہشتگردی خاتمے پر آ گئی تھی ، کسی اگر مگر،زیر زبر کے بغیر دہشتگردوں کو دہشتگرد اور قومی مجرم کہا جائے، دہشتگردوں کے خلاف بغیر کسی عذر کے کارروائی کی جائے، ان لوگوں کو ناراض کہنا بے گناہوں کو شہید کرنا کون سی ناراضگی ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ کون سے حقوق کی بات کرتے ہیں ؟، اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں مارے گئے ہیں، یہ لوگ اس لیے مارے گئے کہ دشمن ملک کے آلہ کار ہیں، مسلح افواج نے اپنی حکمت اور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ سرحد پر کچھ نہیں کر سکتے لیکن آپریشن سندور کو بہکے،گمراہ لوگوں کی مدد سے چلا رہے ہیں، یہ دشمن ملک کے ایماء پر پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں ، ان سے کسی قسم کی بات نہیں ہو سکتی ، کیا وہ اس نظام پر یقین رکھتے ہیں اور الیکشن ان کا مطالبہ ہے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 30 مسافروں کو گولی سے چھلنی کیا، وہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، دہشتگرد،بھارت کی ایماء پر سندور آپریشن ٹو کے تحت ایسی کارروائیاں کرتے ہیں، 177 دہشتگرد مارے گئے ہیں، 33 سویلین اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں، یہ لوگ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے مخلتف مقامات پر نکلے ، پولیس پر حملہ کیا گیا اور سویلین کو یرغمال بنایا ، کوئٹہ میں ریڈ زون میں داخل ہونےکی کوشش ناکام بنائی گئی، فورسز کے پہنچنے کے بعد یہ اپنی کمین گاہوں کی طرف دوڑے ، فوج نے پیچھا کر کے 177 جہنم واصل کیے ۔






















