وفاقی وزیرمواصلات کی ہدایت پر این ایچ اے نے ملکی شاہراہوں کے دونوں اطراف تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نجی شعبے کو چاروں صوبوں میں شاہراہوں کے اطراف کاروبار کے مواقع دیئے جائیں گے ۔ سالانہ 30 کروڑ روپے مالیت کی حامل نجی فرمز کیلئے بولیاں 25 فروری کو کھلیں گی ۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان کے این ایچ اے کو جدید اور خود کفیل ادارہ بنانے کے ویژن پر عملدرآمد کےلیے ملک بھر کی شاہراہوں کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کو باضابطہ بنانے کیلئے ایک اور قدم بڑھا دیا گیا۔ قومی شاہراہوں پر ٹول پلازوں کے بعد رائٹ آف ویز کو لیز پر دیا جائے گا ۔ این ایچ اے نےادارے کی آمدن بڑھانےاور شفافیت یقینی بنانے کے لئے اشتہارات جاری کر دیئے ۔
اشتہارات کےمطابق قومی شاہراہوں پر ٹول پلازوں کےبعد این5 سے این80 تک کے آر او ڈبلیوز کو لیز کیا جائے گا۔ ان میں کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ ، لسبیلہ، بھکر، رحیم یار خان ، ڈی جی خان، بہاولپور اور ملتان کےعلاقےشامل ہیں ۔ لاہور، وزیرآباد، راولپنڈی ، پشاور ، کوہاٹ ، ایبٹ آباد اور بٹ خیلہ میں شاہراہوں کےاطراف کاروباری جگہ کی لیزنگ ہوگی ۔ پری کوالیفائیڈ فرموں کی فنانشل بڈز 25 فروری کو اوپن ہوں گی ۔ سالانہ 30 کروڑ مالیت کی حامل فرموں کے لئے سرمایہ کاری کا یہ سنہری موقع ہے ۔
نیشنل ہائی ویز پر قائم ہوٹلز اور پیٹرول پمپس سے این او سی فیس اور سالانہ کرایوں کی وصولی آؤٹ سورس ہو گی ۔ عوام کو چاروں صوبوں کی شاہراہوں کے اطراف بزنس کے مزید مواقع ملیں گے ۔ آر او ڈبلیوز کو نجی شعبے کے حوالے کرنے میں ''پیپرا رولز'' اور قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی ہو گی ۔ اس سے این ایچ اے کے ریونیو کو بڑھانے اور شاہراہوں پر خلاف ضابطہ تجارتی سرگرمیوں اور تجاوزات کی حوصلہ شکنی ہو گی۔





















