حکومت نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ مدت سے پہلے واپس کرنا شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 14 ماہ میں تین ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا گیا۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران تین ہزار 364 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا گیا جبکہ آج اسٹیٹ بینک کو مزید 300 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا قرضہ تقریباً 44 فیصد کم ہو چکا ہے اور مالی سال 2025،26 میں قرضہ واپسی دو ہزار ایک سو پچاس ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے جبکہ عوامی قرضہ اسی اعشاریہ پانچ کھرب سے کم ہو کر اسی کھرب روپے رہ گیا ہے۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ بہتر نظم و ضبط سے حکومت کو سود اور قرضوں میں تقریباً 850 ارب روپے کی بچت ہوئی اور قرضوں کی اوسط مدت 2.7 سال سے بڑھ کر 4 سال سے زائد ہو گئی ہے، جس سے معیشت مزید مستحکم ہوئی ہے۔





















