پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے دوران شدید دباؤ دیکھا گیا جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6000 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔
ہنڈریڈ انڈیکس 6042 پوائنٹس گر کر 182338 پوائنٹس پر بند ہوا، مارکیٹ 188000 ، 187000 , 186000 , 185000 , 184000 اور 183000 پوائنٹس کی 6 حدیں ایک ساتھ گنوا بیٹھی۔
بروکرز کے مطابق ایف ایف سی کا خراب رزلٹ اور امریکہ ایران کشیدگی سے اسٹاک مارکیٹ متاثر رہی۔ سپر ٹیکس ،شرح سود کم نہ ہونا اور رول اوور ویک کا بھی مارکیٹ پر منفی اثر پڑا۔
یاد رہے کہ بدھ کوبینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعرات کو ٹھہراؤ دیکھا گیا کیونکہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج نے ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا جبکہ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم نظر آئی۔
عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹھوس اثاثوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے میں ناکامی کی صورت میں ایران پر ممکنہ حملوں کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئیں۔





















