حکومتی دعوؤں کے برعکس پاکستان میں سرمایہ کاری کا منفی رجحان برقرار ہے۔رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43 فیصد سے زائد کمی آگئی۔ حجم صرف 81 کروڑ ڈالر رہا۔ ترسیلات زر اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ میں ملک میں معاشی استحکام برقرار اور مہنگائی قابو میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔پہلی سہہ ماہی میں 2.7 فیصد گروتھ کے بعد موجودہ مالی سال کے اختتام پر معاشی ترقی کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔بہتر مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام کو سہارا ملا۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط اور روپے کی قدر مستحکم ہے۔مالی نظم و ضبط کے باعث مالی اور پرائمری سرپلس حاصل ہوا۔ ترسیلات زر مضبوط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مہنگائی میں کمی کے باعث مانیٹری پالیسی میں نرمی آئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار مگر دباؤ محدود رہنے کی توقع ہے۔ ترسیلات زر اور آئی ٹی اور سروسز برآمدات میں اضافہ ہوا تاہم حکومتی دعووں کے برعکس پاکستان میں سرمایہ کاری کا منفی رجحان برقرار ہے۔ پہلے 6 ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی آئی۔ جولائی تا دسمبر براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم صرف 81 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 6 میں برآمدات بھی 5 فیصد کمی سے 15.5 ڈالر تک محدود رہیں البتہ درآمدات 12.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ فسکل بیلنس 981 ارب روپے مثبت رہا۔





















