وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےصوبے کے تمام اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو لازمی قرار دے دیا،اس مقصد کے لیے پنجاب میں گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
لاہورمیں منعقدہ آفیشل ورکشاپ "ایمپاورنگ پنجاب ود اے آئی"کا باقاعدہ آغاز پنجاب کابینہ کے ارکان کی حاضری سےکیاگیا،جس کی قیادت وزیراعلیٰ مریم نواز نےخود کی،ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزرا کو اے آئی کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی۔
ورکشاپ کےدوران پنجاب کابینہ کےارکان کوگوگل جیمنائی کےمؤثراستعمال پربریفنگ دی گئی،جبکہ گورننس اورپالیسی فریم ورک کی تشکیل میں اے آئی کےاستعمال،آپریشنل پالیسی سازی،شعبہ جاتی اصلاحات اوردیگر امور میں اے آئی کی معاونت پر تفصیلی گفتگوکی گئی،اس موقع پر پالیسی سمری کےتجزیے،سمری کی تیاری اور گوگل ٹولز کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نےکہاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سوچ اورکام کےطریقہ کار کو بدل سکتی ہے،اصلاحات اورپالیسی سازی میں اے آئی کی معاونت ناگزیر ہے اوراے آئی ٹولزکاذمہ دارانہ استعمال مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
گوگل فارایجوکیشن کےماہرین نےورکشاپ میں بریفنگ دیتے ہوئےبتایا کہ پنجاب میں ٹیک ویلی گوگل فار ایجوکیشن کےپلیٹ فارم پر 3 ہزار اساتذہ کی ماسٹر ٹریننگ کی جارہی ہے،پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تین لاکھ سےزائد طلبہ کی اسٹوڈنٹ آئی ڈیزقائم کی جاچکی ہیں،جبکہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کےتحت 2 لاکھ طلبہ اور 2 ہزار اساتذہ کو تربیت دی جارہی ہے،اس کے علاوہ ڈیجیٹل صحافت کے فروغ کے لیے 10 تنظیموں کے لیے ایک ہزار اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔





















