وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو ان کی خوشیاں لوٹانے آئی ہوں، 30سال پہلے ہارس اینڈ کلچر کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا، پنجاب سب کا صوبہ ہے، بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ادارے کام کررہےہیں، پنجاب سے باہر دنیا بھر میں پنجاب کے کلچر کو اہمیت حاصل ہے، 6 ،7اور 8فروری کو بسنت منانے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مریم نوازشریف نے کہا کہ لاہور کو ہم نے3زونز میں تقسیم کیا ہے، حکومت اپنے خرچے سے10لاکھ بائیکرز کو سیفٹی راڈز لگاکر دے رہی ہے، جن لوگوں نے بسنت سے پہلے پتنگ اُڑانے کی کوشش کی ان کو گرفتارکیا، دوڑ کی اجازت ہے،چرخی کی اجازت نہیں، بسنت سے پہلے کوئی پتنگ اُڑائے گا تو اس پر20لاکھ جرمانہ ہو گا، کوئی بچہ پتنگ اُڑائے گا تو اس کے بڑے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائےگا۔
ان کا کہناتھا کہ سیفٹی راڈز کے بغیر موٹرسائیکل چلانے پر 2 ہزار روپے جرمانہ ہو گا، 35انچ سے بڑی پتنگ کی اجازت نہیں، ہم نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کوبھی آن بورڈ لیا ہے، پولیس کے 4 ہزار سے زیادہ اہلکار آن ڈیوٹی ہوں گے، ٹریفک پولیس کے ایک ہزار سے زیادہ کیمپس لگا رہےہیں، بسنت کے دوران 500 بسیں چلائیں گے،یہ کرایہ فری ہوگی، بسنت کے دوران 6 ہزار رکشے اور موٹرسائیکلیں چلائیں گے، بسنت کےدوران اورنج لائن،میٹرو اور الیکٹرک بسیں بھی فری چلائیں گے، 3دن کے دوران 5 لاکھ ٹرپس کا میری طرف سے تحفہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ہیلتھ پلان بھی بنا دیا ہے، لوکل اسپتالوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے، فائر وہیکل اور فائر بریگیڈ کا بھی پلان ہے، موٹر بائیکس ایمبولینس کا بھی نظام بنا لیا ہے، عوام اور میڈیا کسی بھی غلط خبر پر توجہ نہ دیں، 6فروری کی رات بنست کے فیسٹیول کا آغازکریں گے، 7فروری کی دوپہر سے باقاعدہ بست کا آغاز ہو گا، اللہ کرے پنجاب ہنستا اور بستا رہے۔






















