اسلام آباد میں متبادل تنازعاتی حل کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ پر عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے ثالثی کے نظام کو مضبوط بنانے، مقدمات کے فوری حل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے پر زور دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ثالثی تنازعات کے حل میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بہت سے مقدمات عدالتوں میں برسوں پھنسے رہتے ہیں حالانکہ ان کا حل ممکن ہوتا ہے، اور جب معاملہ عدالت میں چلا جائے تو منصوبوں کیلئے سنگین مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایف بی آر معاملات کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کیلئے ترامیم لائی گئی ہیں۔ ثالثی کمیٹی پر ایف بی آر کی طرف جھکاؤ کے اعتراضات دور کر دیئے گئے ہیں۔ نئی ترمیم کے تحت ہائیکورٹ کے تین ریٹائرڈ ججز کا پینل دیا جائے گا، جس میں سے ایک کو چیئرمین منتخب کیا جائے گا، جبکہ اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نام ٹیکس پیئر یا کمشنر کی جانب سے دیا جا سکے گا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس دہندگان کے تحفظات دور کرنا ہے، اور کمیٹی کے فیصلے پر اتفاق کے بعد دونوں فریق مقدمات ختم کر دیں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پاکستان کے بہتر معاشی مستقبل کیلئے ثالثی کے ذریعے مقدمات کا نمٹانا ناگزیر ہے۔ اختلافات کے حل کیلئے قرآن میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے، اور معاشی ترقی کیلئے اس نوعیت کے مکالمے کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کمرشل کیسز کیلئے ایک اہم طریقہ کار بنا دیا ہے، تاکہ سرمایہ کاروں کو یقین ہو کہ عدلیہ قومی اہمیت کے معاملات میں ان کے ساتھ کھڑی ہے، اور پاکستان اپنی ترقی کا راستہ خود بنا رہا ہے۔
سیکرٹری وزارتِ قانون راجہ نعیم اکبر نے کہا کہ وزارتِ قانون متبادل تنازعاتی حل کا نظام صوبوں میں بھی متعارف کرا رہی ہے۔ ثالثی سے متعلق نیا قانون لانے کے بہت قریب ہیں۔






















