پاکستان اور امریکا کے درمیان پارلیمانی تعلقات کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
سینیٹرمحمود الحسن اورسینیٹر سلیم مانڈوی والا پر مشتمل پاکستانی پارلیمانی وفد نے واشنگٹن میں امریکی پارلیمنٹ کا دورہ کیا،جہاں وفد نےامریکی سینیٹرز اورکانگریس اراکین سے ملاقاتیں کیں اور انہیں دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔
اس موقع پرخطاب کرتےہوئے کانگریس مین ران ایسٹس نےاس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انٹر پارلیمانی تبادلوں کو فروغ دیاجانا چاہیے،امریکی پارلیمانی وفد نےسینیٹر رانا محمود الحسن کی دعوت قبول کرتے ہوئے پاکستان آنے کا وعدہ کیا۔
تقریب سےخطاب میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نےکہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں ہونےچاہئیں بلکہ پارلیمانی سطح پر روابط بھی نہایت اہم ہیں،تقریب میں کانگریس مین ٹوم سوازی کی نمائندگی کرتے ہوئے انکی معاون نے انکا پیغام پڑھ کر سنایا،جس میں بتایا گیا کہ انکی فیملی پاکستان سےہجرت کرکےبھارت گئی تھی اور وہ سکھ برادری کی جانب سے پاکستان سے محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔
ادارے کےچیئرمین ڈاکٹرمجتبیٰ نےخطاب میں کہا کہ کانگریس مین ایل گرین کو پاکستان اسٹریٹیجک بائی پارٹیزن کاکس بنانے کی دعوت دی گئی،جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے، اس کاکس کو مالی وسائل امریکا میں مقیم پاکستانی فراہم کریں گے۔
واشنگٹن کےکیپٹل ہل میں منعقدہ تقریب کےدوران پاکستانی اور امریکی وفود کےدرمیان تحائف کا تبادلہ بھی کیاگیا،پاکستانی پارلیمانی وفدکوکل وائٹ ہاؤس میں بھی مدعو کیاگیا ہے،واضح رہےکہ پاکستانی پارلیمانی وفد پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے کی دعوت پر امریکا پہنچا ہے۔






















