پاکستان سپر لیگ کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے، جن کا اطلاق ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن سے ہوگا۔
ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بارکھلاڑیوں کی سلیکشن ڈرافٹ کےبجائے آکشن کےذریعے کی جائے گی،جس کامقصد ٹیموں کومزید متوازن بنانا اور کھلاڑیوں کوزیادہ کمائی کےمواقع فراہم کرنا ہے،پی ایس ایل انتظامیہ کےمطابق مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ قوانین کوختم کردیا گیا ہے۔
آکشن سےقبل ہرفرنچائز کو مجموعی طور پرچارکھلاڑی ریٹین کرنےکی اجازت ہوگی،تاہم ہرکیٹیگری میں زیادہ سےزیادہ ایک کھلاڑی کوبرقراررکھاجاسکےگا،نئی شامل ہونے والی دونوں ٹیموں کو آکشن سے قبل چار کھلاڑی منتخب کرنےکا خصوصی موقع دیا جائے گا،جبکہ ہر فرنچائز کو ایک انٹرنیشنل کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنےکی اجازت بھی دے دی گئی ہے،تاہم ڈائریکٹ سائننگ کے لیے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ متعلقہ غیر ملکی کھلاڑی 2025 کے پی ایس ایل ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔
انتظامیہ کےمطابق آکشن میں استعمال کے لیےہرٹیم کا سیلری کیپ 16 لاکھ ڈالرزمقررکیاگیا ہے،ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا، جبکہ شائقین کرکٹ کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ایس ایل 11 کے کچھ میچز اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں بھی کھیلے جائیں گے۔





















