پاکستان ٹیلی ویژن کے خبرنامے سے پہچان بنانے والی معروف سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ اپنی 45 سالہ طویل وابستگی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے میڈیا حلقوں اور مداحوں کو جذباتی کر دیا ہے ۔
عشرت فاطمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ریڈیو پاکستان سے اپنے آخری خبرنامے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے سامعین سے رخصت لیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی 45 سالہ رفاقت کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور سامعین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس طویل سفر میں ان کا ساتھ دیا۔
بعد ازاں ایک 13 منٹ طویل ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ نے اپنے فیصلے کے پس منظر پر تفصیل سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل تھا اور وہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے قبل انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس میں ان کے لیے بہتری اور آسانی ہو۔
عشرت فاطمہ کے مطابق ان کا باقاعدہ نیوز ریڈنگ کا سفر 1984 میں شروع ہوا، جبکہ وہ 1983 سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خبریں پڑھنا ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جذبہ، عشق اور جنون رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی آواز، تلفظ، صحت اور کام کی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے اور وہ ہمیشہ وقت کی پابند اور اپنے کام سے مخلص رہی ہیں۔
تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کے باوجود انہیں کام کرنے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق انہیں بارہا سینئر اور لیجنڈ قرار دیا گیا، لیکن عملی طور پر ان کے تجربے اور محنت کو وہ مقام نہ مل سکا جس کی وہ حق دار تھیں۔ عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی، جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طویل عرصہ حالات بہتر ہونے کا انتظار کیا، مگر بالآخر ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے مداحوں کو یقین دلایا کہ وہ مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوں گی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے چاہنے والوں سے رابطے میں رہیں گی، جہاں وہ اپنی یادیں اور تجربات شیئر کرتی رہیں گی۔
واضح رہے کہ عشرت فاطمہ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پاکستان اور تمغۂ امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔




















