راولپنڈی میں تیرہ سال کی یتیم گھریلو ملازمہ سے جبری زیادتی کا انکشاف ہواہے ، ملزم مالکان نے لڑکی کو حاملہ ہونے پر قریبی عزیزہ کے ساتھ گاؤں بجھوا دیا،پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق سات سال کی بچی والد کی وفات اور والدہ کی دوسری شادی کے باعث قریبی عزیزہ غلام فاطمہ کے پاس رہائش پذیر تھی، جسےبہتر تعلیم و تربیت کے لئے سنیلا کے حوالے کیا گیا اور طے پایا کہ وہ گھریلو کام کاج عوض چھ ہزار ماہانہ تنخواہ بھی دیں گے ۔
متاثرہ بچی پانچ سال سے سنیلا کے پاس ہی رہائش پذیر تھی ۔ جس سے کبھی کبھار فون پر بات بھی کروائی جاتی تھی،لیکن گزشتہ سات ماہ سے سنیلا بچی سے غلام فاطمہ کی بات نہیں کروا رہی تھی،جس پر پندرہ دسمبر کو بچی کو ملنے اور لینے جب وہ راولپنڈی میں سنیلا کے گھر پہنچی تو پہلے اسے لڑکی سے ملنے نہ دیا گیا،اور بعد میں لڑکی کو اسکے ساتھ گاؤں بجھوا دیا گیا۔
جہاں جا کر پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے،جس کا باقاعدہ ٹیسٹ بھی کروایا گیا ہے،متن مقدمہ کے مطابق لڑکی نے غلام فاطمہ کو بتایا کہ عدیل نیند کی گولیاں کھلا کر اسے متعدد بار زیادتی کر چکا ،آخری مرتبہ ایک ماہ قبل عدیل نے اس سے زیادتی کی ہے،عدیل اور شافع اس پر تشدد کرتے تھے اور کسی کو بتانے سے منع کرتے تھے، پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں ۔





















