امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سب کچھ ختم کر دیا گیا،ایرانی بحریہ اور اس کے مانیٹرنگ اور ریڈار سسٹم کو ختم کر دیا،ایران میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات کئے،ایران اُن ممالک پر حملہ کر رہا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں،ایران کے سپریم لیڈر سمیت 49رہنماؤں کو نشانہ بنایا،ایران میں بہت سے لوگ استثنیٰ کے لیے درخواست کر رہے ہیں،ایران کے پاس اب ہوائی دفاع اور نگرانی کی سہولیات نہیں،ایران خلیجی ممالک میں صرف شہری مقامات پر حملہ کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران کے خلاف حملوں کی تیسری لہر آنیوالی ہے،ایران میں استثنیٰ کا مطالبہ کرنے والے کسی وقت بھی ہتھیار ڈال دیں گے،آج ایران میں مزید رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا،ایران کو بڑے نقصان کیلئے تیار رہنا چاہیے،دیکھیں گے ایران میں کیا ہوتا ہے لیکن پہلے فوجی کارروائی ختم کرنی ہوگی،
ان کا کہناتھا کہ اسپین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ختم کررہے ہیں، میں اسپین کے ساتھ جلد تمام کاروباری سرگرمیاں بند کررہا ہوں ، میں برطانیہ سے بھی خوش نہیں ہوں، تیل کی قیمتیں کچھ وقت کے لیے بڑھیں گی، پھر گر جائیں گی، ڈیموکریٹس لوزر ہیں، ہمارے پاس گولہ بارود اور ہتھیاروں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے، ٹیرف نے ہمیں امیر ملک بنایا۔
امریکی صدر کا کہناتھا کہ ایران نے سعودی عرب ،قطر،یواے ای ،کویت ،عمان سب کو نشانہ بنایا،امید ہے ایران تنازعے کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں گریں گی،آپریشن مڈنائٹ ہیمر نہ کرتے تو ایران جوہری طاقت حاصل کرلیتا۔




















