امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایرانی محب وطن احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول حاصل کر لیں، مظاہرین کو مدد پہنچنے والی ہے جبکہ ایرانی وزیر دفاع نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے کوئی حماقت کی تو دنیا بھر میں امریکی مفادات حملوں کی زد میں ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام کےساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دیں، ایرانی حکام سےمظاہرین کا قتل عام بند ہونےتک ملاقات نہیں ہو گی، ایرانی محبِ وطن احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول حاصل کر لیں، مظاہرین کو مدد پہنچنے والی ہے، قاتلوں اور ظالموں کے نام محفوظ رکھو، انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایرانی وزیر دفاع
دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے امریکی صدر کے بیان پر رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے سرپرائزز تیار ہیں، جارحیت کرنے والوں کو ایران کے سرپرائزز سے شدید تکلیف ہو گی، واشنگٹن نے کوئی حماقت کی تو دنیا بھر میں امریکی مفادات حملوں کی زد میں ہوں گے، جو ملک امریکی جارحیت میں سہولت کاری کرے گا اسے بھی معاف نہیں کیا جائے گا، ایران میں اسلامی نظام کو چیلنج کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
احتجاج کے دوران ہلاکتیں
غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ایک عہدیدا ر نے دعویٰ کیاہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی عہدیدارکے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی۔ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ جن عناصر کو انہوں نے "دہشت گرد" قرار دیا، وہی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔
ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر اب تک ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کوئی اعدادو شمار جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔






















