مختلف سرکاری اداروں کےذمے قرضوں اور واجبات کا حجم 9.5 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔
وزارت خزانہ کےسینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نےسرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی بےنقاب کردی،سرکاری اداروں کےحکومت پرزیادہ مالی انحصارکو قومی خزانے کے لئےخطرہ قراردے ڈالا،انکشاف کیا کہ سرکاری اداروں کے تیل ،گیس،بجلی اورانفراسٹرکچر پرخرچےاورقرضے 9557 ارب روپےتک پہنچ چکے،جن میں ملکی و غیرملکی قرضے،رول اوورز اور سود کی ادائیگی شامل ہے۔
سینٹرل مانیڑنگ یونٹ کےمطابق پاورسیکٹرکاگردشی قرضہ 4.9 ٹریلین روپےتک جا پہنچا،سرکاری اداروں کوکریڈٹ،مارکیٹ اور آپریشنل خطرات کا سامنا ہے،ناقص گورننس اور سیاسی مداخلت سے سرکاری اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
سرکاری ادارے حکومتی ضمانتوں اورمسلسل قرضوں پرانحصارکررہےہیں،2024 کی صرف ایک ششماہی میں ان اداروں کو 616 ارب روپےکی مالی مدددی گئی،خسارے میں چلنے والے اداروں کے قرضے بڑھنے سے مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ۔
رپورٹ کےمطابق حکومتی سبسڈیزمیں تاخیر سے سرکاری اداروں کی مالی حالت مزیدخراب ہوئی، توانائی،تیل اورگیس کےاداروں کی آمدن عالمی قیمتوں کےاتارچڑھاؤ سےمتاثر ہوئی،بوسیدہ نظام کی انتظامی کمزوریوں سے منصوبوں میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔
کریڈٹ رسک مینجمنٹ سسسٹم کو مضبوط بنانا اورخسارےمیں چلنے والے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ ضروری ہے،مانیڑنگ یونٹ کا سرکاری ضمانتوں کا اجرا محدود کرنے،ریگولیٹری نگرانی بہتر بنانے پر زور خبردارکیا کہ اصلاحات نہ ہوئیں تو قومی مالی استحکام کو خطرات لاحق رہیں گے





















