وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ 3 صوبوں میں گئے کہیں کسی شہید کا گھر آپ کو نظر نہیں آیا، آپ جان بوجھ کرسیف سٹی کیمرے نہیں لگاتےآپ نےفرانزک لیب نہیں بنائی ، وزیراعلیٰ ہو یا کوئی اور عہدیدار،مبہم بیان بازی قبول نہیں ہے ۔
تفصیلات کے مطابق مطابق طلال چوہدری کا کہناتھا کہ آپ کو اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان چلے جائیں ، 1200 لوگ شہید ہوگئے کتنے لوگ اور چاہیے، کتنے لوگوں کو بموں سے اڑا دیا گیا ، آپ جان بوجھ پر ابہام پیدا کرتےہیِں ، 11سال سے پی ٹی آئی کےکسی اہم عہدیدار،وزیر، مشیرپر حملہ نہیں ہوا، 11سال میں تمام سیاسی جماعتوں کےقائدین پر حملے ہوئےکیونکہ وہ دہشتگردوں کیخلاف بولتےہیں، آپ کا ترجمان کھل کر نہ دہشتگردوں کی مذمت کرتا ہےنہ سیکیورٹی فورسزکی حمایت کرتا ہے، اپنے آئی جی سے پوچھیں کہ ان کےٹریننگ کیمپ کہاں ہیں ۔
ان کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےاپنی نام نہاد اسٹریٹ مہم میں قومی مفاد سےمتعلق بات کی، وزیراعلیٰ نےکہا اگرافغانستان دہشتگردی کر رہا ہے تو ہمیں اسے کے ثبوت دینے چاہیے، دہشتگردی کے حوالے سے انکے بیان سے ابہام پیدا ہوا، دہشتگرد کو دہشتگرد کہنے سے اجتناب کررہے ہیں، ہمارے دو ہمسائےہیں ایک ہمسایہ ہمارے خلاف سرمایہ لگا رہا ہےدوسرا عمل کر رہا ہے۔
طلال چوہدری کا کہناتھا کہ ہمارےلوگوں کے سروں کے فٹبال بنے آپ بیانیہ بنا کر انکی حمایت کر رہے ہیں، زیادہ دہشتگردی کے واقعات بھی خیبر پختونخوا میں ہوئے ، کسی کو پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے ، آپکوافغانستان سے ہمدردی ہے تو ادھر چلے جائیں یا ہم آپکوچھوڑ آتے ہیں ، آئندہ دہشتگردوں کے حق میں کوئی بھی بیان آیا تو برداشت نہیں کیا جائےگا ، ہمیں سیاسی سرگرمی سے اختلاف ہے نہ ہم کسی کو روکیں گے، وزیر اعظم خود خیبر پختونخوا کے کئی دورے کرچکے ہیں ، کاؤنٹر ٹیرارزم اجلاس میں وزیراعلیٰ تشریف نہیں لاتے۔






















