وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا، نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری اوٌلین ترجیحات میں شامل ہے ۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اہم اجلاس ہوا ۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن میں نجی شعبے سے بہترین صلاحیتوں کےحامل متعلقہ افراد رکھیں جائیں ، تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں میرٹ کی بنیاد پر کرنے پر زور دیا۔ نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹلائز کرنے اور تمام نجکاری منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت بھی کردی۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کا شعبہ مزید بہتر بنایا جائے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں رکھا گیا ہے، پہلےبیچ میں اسلام آباد ، گوجرانوالہ اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنیز جبکہ دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی ۔ نجکاری کمیشن میں فائنانس، ایچ آر، قانون،آئی ٹی اورمیڈیا ایڈوائرز مارکیٹ سے بھرتی کئےجائیں گے، اسٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور کے شعبوں کے کنسلٹینس بھی مارکیٹ سے ہی مقرر کئے جائیں گے ۔



















