ایران میں مہنگائی کیخلاف جاری احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس پر ٹرمپ نے دھمکی لگائی کہ مظاہرین کو قتل کرنا بند کرو ورنہ ہم مدد کیلئے تیار بیٹھے ہیں ، امریکی صدر کے بیان پر ایران نے بھی رد عمل جاری کر دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ایران کے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور صدر ٹرمپ کے موقف نے مظاہروں کے پس پردہ حقائق کو واضح کیا، ہم تاجروں کے موقف کو تخریبی عناصر کے موقف سے الگ سمجھتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی مسئلے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری اور امریکی مفادات کی تباہی کا باعث ہو گی، امریکی عوام جان لیں کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا تھا، انہیں اپنے فوجیوں کی حفاظت پر توجہ دینی چاہیے ۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی آمیز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت پرامن مظاہرین کو قتل کرنا بند کرے، ورنہ ہم مظاہرین کی مدد کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔
احتجاج کا آغاز اتوار کے روز تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے ہوا، جو مہنگائی، معاشی جمود اور ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف تھا۔ بعد ازاں یہ مظاہرے دیگر بڑے شہروں تک پھیل گئے اور کم از کم 10 جامعات کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے۔
مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہوگیا۔ تہران اور دیگر شہروں میں گزشتہ روز پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ لُرستان میں مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولا ۔ پولیس کی فائرنگ سے چھ مظاہرین جاں بحق سترہ زخمی ہوگئے۔






















