اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے اختیارات سے تجاوز اور غیرقانونی گرفتاریوں پر بڑا حکم دے دیا۔ عدالت نے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کی گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا۔ 4 شہریوں کے مقدمات خارج، پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس اور جرمانے کے احکامات جاری کردئیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی بیگمات کے خلاف درج مقدمات کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جاری کیا، جس میں چاروں شہریوں کے خلاف درج مقدمہ ختم کرنے کی وضاحت کی گئی۔
ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر قانونی پراسس کے ساتھ کھلواڑ ہو یا انصاف متاثر ہو تو کارروائی کالعدم ہوگی۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو ساری کارروائی ختم ہو جاتی ہے۔
تحریری فیصلہ میں عدالت نے بتایا کہ فوجداری کارروائی کالعدم قرار دینے کا دائرہ محدود ہے، مگر غیر معمولی حالات میں عدالت کو اختیار استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچیوں کے اغوا کے معاملے پر بھی عدالت نے واضح موقف اختیار کیا۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہر اہلکار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔ جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثنا سہیل کو ادا کی جائے۔
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی گاڑیاں، نقد اور زیورات فوری واپس کئے جائیں۔ لاہور پولیس کو بھی ہدایت کی گئی کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے ملزمان کے خلاف میرٹ پر تحقیقات کرے۔ آئی جی اسلام آباد فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے تیس روز میں رپورٹ پیش کریں۔



















