آسٹریلیا کے بعد فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز دیدی گئی ہے۔
فرانسیسی حکومت نےبچوں کو ڈیجیٹل اسکرینز کے ضرورت سےزیادہ استعمال اوراسکےمضر اثرات سے بچانے کے لیےایک نیا قانون متعارف کروانےکا فیصلہ کیا ہے،جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صدر ایمانویل میکرون کی زیرِقیادت اس اقدام کا مقصد بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے،جس کے لیےپارلیمنٹ میں آئندہ برس جنوری سے بحث شروع ہو جائےگی اور اس قانون کو ستمبر 2026 تک نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق متعدد طبی تحقیقات اور رپورٹس یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ڈیجیٹل اسکرینز تک غیرمحدود رسائی بچوں کو نازیبا مواد، سائبر ہراسانی اور نیند کے نظام میں بگاڑ جیسے سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
واضح رہےکہ آسٹریلیا حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر ایسی ہی پابندی عائد کر کے دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے،جس کے بعد اب فرانس بھی اسی نقشِ قدم پرچلتے ہوئے نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قانونی شکنجہ تیار کر رہا ہے۔






















