قانون سازی کے اعتبار سے سال 2025 پارلیمنٹ کے لیے غیر معمولی اہم ثابت ہوا، جہاں دونوں ایوانوں میں تیز رفتار قانون سازی دیکھنے میں آئی۔ بیشتر قانون سازی کی محرک حکومت رہی، جبکہ اپوزیشن کا بڑا حصہ احتجاج اور واک آؤٹس کی نذر ہوتا رہا۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم اور تجاویز کمیٹیوں تک محدود رہیں۔
قومی اسمبلی میں درجنوں بلز پیش کیے گئے، جن میں سے 31 بلز منظور ہوئے۔ ان قوانین میں آئینی ترامیم، ڈیجیٹل قوانین، دفاعی امور اور انتظامی اصلاحات شامل رہیں۔ کئی قوانین بغیر طویل بحث کے منظور ہونے پر اپوزیشن نے شدید اعتراضات بھی اٹھائے۔
سال کی سب سے بڑی پیش رفت 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری رہی، جسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے منظور کیا۔ اس ترمیم کے تحت عدالتی نظام، وفاقی و صوبائی اختیارات اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں۔
ترمیم کے مطابق آرمی چیف کی مدت اور کردار میں تبدیلی کی گئی اور سپہ سالار کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دیا گیا۔
اسی ترمیم کے ذریعے ملک میں پہلی بار اعلیٰ عدلیہ کو وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے الگ ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا، جبکہ دونوں عدالتوں کے سربراہان میں سے سینئر ترین چیف جسٹس کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کرنے کا اصول بھی طے پایا۔
پارلیمنٹ نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025، پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2025 بھی منظور کیے۔
اسی طرح پیکا ترمیمی بل منظور کر کے سوشل میڈیا اور آن لائن مواد کے لیے سخت ریگولیٹری اختیارات متعارف کرائے گئے، جن میں غلط معلومات پر سزائیں اور جرمانے شامل ہیں۔
مزید برآں ارکانِ پارلیمنٹ تنخواہ و مراعات ترمیمی بل 2025، وکلا و بار کونسلز ترمیمی بل، تیزاب و آگ سے جلانے کے جرم کا بل اور زکوٰۃ و عشر ترمیمی بل بھی قانون بنے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق 2025 میں قانون سازی کا بڑا حصہ حکومتی بلز پر مشتمل رہا، جبکہ اپوزیشن کی متعدد تجاویز عملی مرحلے تک نہ پہنچ سکیں۔
پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اپنی جگہ، مگر 2025 وہ سال رہا جس میں قانون سازی نے ملکی سیاست کا درجہ حرارت مسلسل بلند رکھا۔






















