پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھا لیا گیا۔ اسلام آباد کے پاک چائنا سنٹر میں میڈ اِن پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں خودکار نگرانی کرنے والے ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز اور دھماکہ خیز مواد کو محفوظ مقام پر منتقل کر کے ناکارہ بنانے والے جدید روبوٹس کی شاندار نمائش کی گئی۔
یہ نمائش یو اے وی فیڈریشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں 30 سے زائد پاکستانی اور چینی مینوفیکچررز کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی ماہرین نے شرکت کی۔ نمائش میں ایسے جدید ڈرونز پیش کیے گئے جو جدید سافٹ ویئر کی مدد سے فصلوں کی خودکار نگرانی، مکمل رپورٹنگ اور اسپرے جیسے زرعی امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ مشتبہ ڈرونز کے سگنلز کو جام کرنے والے اینٹی ڈرون سسٹمز اور مصنوعی ذہانت سے لیس ریموٹ کنٹرول روبوٹس بھی شرکا کی توجہ کا مرکز رہے، جو دھماکہ خیز مواد کو محفوظ انداز میں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کا حصول مضبوط ملکی دفاع اور خود انحصاری کے لیے ناگزیر ہے۔
یو اے وی فیڈریشن پاکستان کے صدر زعیم احمد نے کہا کہ مئی 2025 کے اندر اپنے ہمسایوں کو ایک سبق سکھایا تھا تو اب اس سبق سکھانے کا نیکسٹ مرحلے کے لیے ہم بھرپور طور پہ تیار ہیں ،پاکستان اب ٹیکنالوجی میں مکمل خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ اقدامات مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
ایروناٹیکل انجینئر سارہ قریشی کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکنالوجی درآمد کر کے ترقی ممکن نہیں، حقیقی آزادی ٹیکنالوجی میں خود مختاری سے جڑی ہے، اور پاکستان اسی سمت گامزن ہے۔
نمائش میں پاکستان کی پہلی ایئر ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے جلد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی نوید بھی سنائی گئی، جو ملکی ایوی ایشن اور اربن ٹرانسپورٹ کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ نمائش نہ صرف میکاٹرونکس اور مصنوعی ذہانت کی جدتوں سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی میں پاکستان کی خود انحصاری کا واضح پیغام بھی دیتی ہے۔



















