امریکا میں بھوک اور وزن کم کرنے والی نئی ادویات کی منظوری کے بعد آئندہ برس پیک شدہ غذاؤں اور فاسٹ فوڈ انڈسٹری کو اپنی مصنوعات میں نمایاں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں کیونکہ ان ادویات کے استعمال میں اضافے سے صارفین کی خوراک سے متعلق ترجیحات بدل رہی ہیں۔
خبرایجنسی کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) نے رواں ہفتے نوو نورڈسک کی جی ایل پی ون گولی ویگووی کی منظوری دی۔ جس کے بعد خوراک تیار کرنے والی کئی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کی مقبولیت کے باعث صارفین اب زیادہ پروٹین، کم مقدار اور صحت سے متعلق دعووں والی غذاؤں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے فوڈ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی لیبلنگ میں تبدیلی، پروٹین کی مقدار میں اضافہ اور چھوٹے حصوں پر کام کر رہی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق مذکورہ ادویات استعمال کرنے والوں کے گروسری اخراجات میں اوسطاً 5.3 فیصد اور فاسٹ فوڈ ریستورانوں پر تقریباً 8 فیصد کمی دیکھی گئی، اگرچہ دوا چھوڑنے کے بعد یہ اثرات کم ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں پہلے ہی زیادہ پروٹین والی اور مخصوص صارفین کے لیے تیار کی گئی مصنوعات متعارف کراچکی ہیں، جبکہ بعض ریستوران چینز نے کم مقدار اور نسبتاً سستے مینو آپشنز بھی شامل کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے والی گولیوں کی آسان دستیابی اور کم قیمت کے باعث ان کا استعمال طویل مدت تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی صنعت میں طلب اور مصنوعات کی نوعیت میں طویل المدتی تبدیلیاں متوقع ہیں۔





















