صدر مملکت آصف علی زرداری نے کرسمس کے پرمسرت موقع پر پاکستان کے مسیحی شہریوں اور دنیا بھر کی مسیحی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرسمس امید، امن اور ہمدردی کا پیغام لے کر آتا ہے۔
صدر مملکت نے کرسمس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس موقع پر محبت اور انسانیت کی خدمت کا درس ہمیں ان گہرے رشتوں کی یاد دلاتا ہے جو تمام انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کا ایسا وژن پیش کیا جو آزادی اور سب کےلئے برابری پر مبنی تھا،11 اگست 1947ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے فرمایا کہ ”آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا پاکستان کی ریاست میں کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ الفاظ مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے درمیان باہمی احترام کےلئے ہمارے عزم کی مضبوط توثیق کرتے ہیں۔
صدر آصف نے کہا کہ پاکستان کے مسیحی شہریوں نے سیاست، قومی دفاع، تعلیم، ادب، فنون لطیفہ، موسیقی، صحت، سماجی بہبود اور عوامی خدمت سمیت مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں، ان کی کاوشیں ہماری مشترکہ ترقی کو تقویت دیتی اور ہماری قومی زندگی کو مزید مالا مال کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس دن ہمیں ایس پی سنگھا سپیکر پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے کردار کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کن ووٹ دیا، اسی طرح یہ دن ہمارے جنگی ہیرو سیسل چوہدری کو یاد کرنے کا بھی ہے جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں نہایت خطرناک مشن کے دوران بھارتی طیاروں، اسلحہ اور ایندھن کے ڈپوئوں کو تباہ کیا اور اپنے طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود مشن مکمل کرکے بحفاظت واپس آئے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کےلئے مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، ہم تمام برادریوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے پرعزم ہیں، ہمارا تنوع ہماری طاقت ہے اور اسے مزید اتحاد، رواداری اور تعاون کا باعث بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بابرکت دن پر میں مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد اور نئے سال کے لئے امن، صحت اور خوشحالی کی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، دعا گو ہوں کہ کرسمس کی روح ہم سب کو ہمدردی اور انصاف کے اصولوں پر کاربند رہنے اور اپنی قوم کی فلاح کےلئے مل کر کام کرنے کی ترغیب دے۔



















