وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ کے 28 دسمبر کو ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ 2023 کی مردم شماری نوٹیفائی ہونے کے بعد 2017 والی مردم شماری پر انتخابات کیوں ہو رہے ہیں؟ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار عبدالقادر کی جانب سے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی حلقہ بندیاں 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئیں، حالانکہ 2023 کی مردم شماری باقاعدہ طور پر نوٹیفائی ہو چکی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق بلدیاتی انتخابات نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں پر ہونے چاہئیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے انتخابات پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔



















