قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لئے بولی کا دوسرا مرحلہ کچھ دیر بعد شروع ہوگا۔ نجکاری کمیشن بورڈ نے خصوصی اجلاس میں پی آئی اے کی ریفرنس قیمت کی منظوری دے دی۔ حتمی اجازت کابینہ کمیٹی دے گی جس کے بعد تینوں بڈرز کی جانب سے جمع کرائی گئیں سربمہر بولیاں کھلے عام دیکھی جائیں گی۔
، لکی سیمنٹ کنسورشیم نےسب سے پہلےبڈ جمع کرائی،ایئربلوگروپ کےنمائندے،اور عارف حبیب کنسور شیم نےبھی بولی جمع کرادی،وزیراعظم کےمشیر نجکاری محمد علی کی سماء سےگفتگو میں کہا قومی ایئر لائن کی نیلامی کا عمل حکومت کے پرائیوٹائزیشن کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ملک کی بہت بڑی معاشی سرگرمی ہے۔ گزشتہ بیس سال میں ملک میں کوئی بڑی پرائیو ٹائزیشن نہیں ہوئی۔
بولیاں ریزرو پرائس سےزائد ہونے کی صورت میں کھلی نیلامی ہوگی،بصورت دیگر سب سے زیادہ بولی دہندہ کو قیمت میچ کرنےکا موقع دیا جائے گا،حکام کےمطابق پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا پلان ہے،کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے کیلئے 90 دن کی مہلت دی جائے گی۔
حکومت نےگزشتہ سال پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے واجبات اپنے ذمہ لے لئے تھے،انگلینڈ اور باقی یورپ کے روٹس بحال ہوچکے،اس بار پی آئی اے کی نجکاری زیادہ پُرکشش ہے،نجکاری کمیشن کے مطابق فوجی فرٹیلائزرکمپنی نے بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کر لی ہے،پی آئی اے نجکاری کی دوڑ میں اب تین پری کوالیفائیڈ گروپ باقی رہ گئے ہیں،ایئربلیو کےعلاوہ لکی سیمنٹ اورعارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں 2 کنسورشیم بھی میدان میں ہیں،نجکاری کمیشن کےمطابق 75 فیصد حصص کی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال ہو گا،باقی ساڑھے سات فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن حکام کےمطابق ممکنہ سرمایہ کار کو پی آئی اے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے اگلے 5 سال کےدوران 80 ارب روپےکی سرمایہ کاری کرنا ہو گی،اسے ایوی ایشن، کارگو بزنس، ٹریننگ ونگ، کچن بزنس دیا جائے گا،پی آئی اے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ شرائط میں شامل ہیں،پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعدمراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی،نئے مالکان موجودہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کےذمہ دار ہوں گے،ادارے کے مالی استحکام کیلئے فوری سرمایہ کاری ،پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہوگی۔



















