سینیٹر رانا ثناء اللہ نے چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن مرتضی کے والد کی وفات پر تعزیت کیلئے آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی کو کسی دوسری جیل منتقل نہیں کر رہے، اگرپی ٹی آئی والےصرف ملاقات کریں تو ہمیں کوئی شکایات نہیں ہیں۔
رانا ثناءاللہ کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی دوسروں کوچورڈاکو کہتے رہے اب خود چورنکل آئے، بانی پی ٹی آئی کو ملی گھڑیوں کے تحفے دوسرے ممالک سے برآمد ہوئے، سال 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر نیا پراجیکٹ لایا گیا، سال 2017 تک ڈالر، پٹرول اور دیگر قیمتیں نارمل تھیں، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام میں جانا پڑا، آئی ایم ایف کی وجہ سے سبسڈی نہیں دے سکتے، آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کے بعد وزیراعظم عوام کو ریلیف دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈویژنل سطح پر ٹریبونل بننا تھے جس پر عدالت نے فیصلہ دیا ہے، 190ملین پاونڈ والا کیس بھی آپ کے سامنے ہے، تحفےکسی شخص کے نہیں ہوتے ریاست کے ہوتے ہیں، دوسروں کو چور کہنے والا خود چور ثابت ہوا ہے۔ اگر موقع ملتا ہے تو پاکستان کی فوج کو فلسطین بھیجنا چاہیے، امن کے حوالے سے پاکستانی فوج بہت بڑا سہارہ ہو گی ، فلسطینیوں کی خدمت کے جذبہ کے تحت جائیں گے کسی کے کہنے پر نہیں۔



















