بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا بے نقاب ہوگیا، بھارتی خبررساں ادارے ’دی پرنٹ‘ اور بھارتی پولیس نے سڈنی حملے کے مرکزی ملزم کی بھارتی ہونے کی تصدیق کر دی ۔
بھارتی خبر رساں ادارے دی پرنٹ نے آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ واقعے سے متعلق حقائق منظر عام پر لا دیے، جس کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق بونڈائی بیچ واقعے میں ملوث حملہ آور ساجد اکرم کا پاکستان سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا اور اس کا تعلق حیدرآباد، تلنگانہ سے ہے۔
رپورٹ میں مزید تصدیق کی گئی کہ بونڈائی بیچ واقعے میں مارا جانے والا ساجد اکرم بھارتی نژاد تھا، جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم پیدائشی طور پر آسٹریلوی شہری ہے۔ اس کے باوجود بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے محض نام سامنے آتے ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی اور حقائق کے برعکس مہم چلائی گئی۔
دی پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نے واقعے سے متعلق تفصیلات بھارت سے طلب کیں، تاہم پاکستان سے کسی قسم کے تعلق کا کوئی ذکر سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی گئی، جو اب بے نقاب ہو چکی ہے۔
بونڈائی بیچ واقعہ ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کر گیا ہے۔ پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے والی مہم خود بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے بعد زمین بوس ہو گئی۔
بھارتی پولیس کا بیان
سڈنی حملے کے ملزمان پر بھارتی پولیس کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے، ملزم ساجد اکرم اصل میں حیدرآباد، بھارت سے تعلق رکھتا ہے، سڈنی فائرنگ کے ملزم کا بھارت میں اپنے خاندان سے محدود رابطہ تھا، آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعد ساجد اکرم نے 6 بار بھارت کا دورہ کیا، ساجد اکرم کے خاندان والے اُن کے حالات سے لا علم تھے، وفاقی اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔






















