پاکستان دو لخت ہوئے چون برس بیت گئے،16 دسمبر1971،یوم سقوط ڈھاکا،پاکستان کی تاریخ کا قومی سانحہ اورسیاہ ترین دن ہے،عاقبت نااندیشی اوردشمن کی سازشوں سے ملک دولخت ہوا۔
16 دسمبر 1971،جس روز پاکستان اپنا مشرقی بازو کھو بیٹھا،پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور قومی سانحہ سیاسی عدم اتفاق،انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنا،وفاق اورمشرقی پاکستان میں اعتمادکا خاتمہ،یہ سب ایک بڑے بحران کی بنیاد بنے،تو بھارت کی کھلی مداخلت صورتحال کو خانہ جنگی کی طرف لے گئی۔
ہمارے بہادر سپاہیوں نےکم تعداد،محدود وسائل اور سپلائی لائن کٹ جانے کے باوجود لڑائی جاری رکھی لیکن بھارتی سازشوں،عسکری مداخلت،مکتی باہنی کی بغاوت اور عالمی طاقتوں کا دباؤیہ سب مل کر پک فوج کو ناقابلِ تصور گرداب اور ہتھیار ڈالنے کے حالات تک لے گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی مرزا اختیار بیگ نےکہاسقوط ڈھاکا ایک بہت واضح میسج دیتا ہےکہ جب محرومیاں بڑھتی ہیں،تو تلخیاں بڑھتی ہیں،تلخیاں بڑھتی ہیں تو پھر جدائیاں ہوتی ہیں،ملک دشمن انڈیا را کی کانسپریسی جو ہے اس میں کام ائی اب اللہ کا شکر ہے کہ بنگلہ دیش والوں نے ریئلائز کرا ہے کہ پاکستان ان کا نیچرل بھائی ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ سبق تھاکہ قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور انصاف کے بغیرکوئی ریاست مضبوط نہیں رہ سکتی،پاکستان کو آج درپیش کئی چیلنجز متقاضی ہیں کہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ آفتاب نے کہا آج اللہ بچائے وہ حالات نہیں ،اس وقت ہماری بدقسمتی تھی کہ جو الیکشنز ہوئے جو اس کے رزلٹس ائے ان کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اگر ان کو تسلیم کر لیا جاتا تو شاید آج ان حالات سے ہم نہ گزر رہے ہوتے، پاکستان ایک ہی ہوتا ہے
سقوطِ ڈھاکہ ایک تلخ یاد،ایک بھاری ذمہ داری اور ایک عہد کہ ہم قوم بن کر آگے بڑھیں گے،تاکہ پاکستان کا مستقبل کبھی کمزور نہ ہو۔



















