لاہور کا ڈی ایس پی اپنی ہی بیوی اور بیٹی کا قاتل نکلا ۔ دو ماہ بعد پولیس نے ڈی ایس پی عثمان حیدر کو گرفتار کر کے مقتولین کی لاشیں برآمد کرلیں۔
کاہنہ ڈیویژن کے ڈی ایس پی عثمان حیدر نے 18 اکتوبر کو برکی تھانے میں بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا، ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا کہ بیوی اور بیٹی کو کسی نامعلوم نے اغوا کر لیا۔
پولیس نے تفتیش شروع کی مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ ایک ماہ بعد مقتولین کے رشتہ داروں نے ڈی ایس پی پر قتل کا الزام لگایا تو پولیس کو شک گزرا۔ ملزم دو ماہ تک پولیس کو چکما دیتا رہا، بلآخر تفتیش میں اعتراف جرم کر ہی لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق 10 مرلے کا پلاٹ بیوی اور بیٹی کے قتل کی وجہ بنا۔ ملزم ڈی ایس پی عثمان حیدر نے 2 شادیاں کررکھی تھیں، عثمان حیدرنے پہلی بیوی کے نام دس مرلہ پلاٹ خرید رکھا تھا۔ ملزم نے پلاٹ واپس لےکر فروخت کیا اور رقم استعمال کرلی۔
پلاٹ فروخت کرنے پرمقتولہ اورڈی ایس پی کے درمیان جھگڑا شروع ہوا، ملزم نے پولیس کو بتایا کہ پلاٹ کی رقم بھائی کی شادی کے لیے استعمال کی، ملزم نے چھریوں کے وار سے بیوی کو قتل کیا، پولیس نے آلہ قتل برآمد کرلیا۔






















