سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت کے دوران ناروے کے سفیر نے شرکت کی جس پر دفتر خارجہ نے ناروے کے سفیر کو طلب کرتے ہوئے معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے جبکہ وزارت خارجہ کی جانب سے احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا گیا ۔
مراسلے کے مطابق سفیر کی موجودگی پاکستان کے داخلی معاملات میں دانستہ مداخلت کے مترادف ہے، ناروے کے سفیر کی موجودگی ویانا کنونشن 1961 کی صریح خلاف ورزی ہے، سفارتی عملے پر لازم ہے وہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرے، سفارتی عملے کو کسی بھی داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ناروے کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، ناروے کی این جی اوز کی جانب سے پاکستان مخالف عناصر کو فروغ دیا جاتا رہا ہے، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کیخلاف مقدمات نہایت حساس نوعیت کے ہیں۔
مراسلےکے مطابق کسی صورت سفارتی حلقے کی ریاست مخالف عناصر سے وابستگی برداشت نہیں کی جا سکتی، پاکستان ناروے کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، توقع ہے ناروے بھی پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے گا، توقع ہے مستقبل میں ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔
ناروے کے سفیر نےآج سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کسی کی سماعت میں شرکت کی تھی۔



















