آج کے دور میں پُراعتماد بچے کیسے تیار کریں؟
آج کل بچے بہت جلد دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
کس کے نمبر زیادہ ہیں؟
کون زیادہ خوبصورت ہے؟
کس میں زیادہ ٹیلنٹ ہے؟
کس کے زیادہ دوست ہیں؟
گھر،اسکول اورسوشل میڈیاہر جگہ بچوں پر یہ دباؤ ہوتا ہے،والدین کا اصل کام یہ ہے کہ بچے کے اندر اتنی مضبوطی پیدا کریں کہ وہ اس موازنہ کی دباؤ کا مقابلہ کر سکے اور پھر بھی پُراعتماد رہے۔
جیت نہیں، کوشش کی تعریف کریں
بچوں کی تعریف صرف تب نہ کریں جب وہ نمبر لائیں یا انعام جیتیں،اُن کی کوشش، محنت اور سیکھنےکی تعریف کریں،جب بچہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش بھی اہم ہے، تو اس کا اعتماد بڑھتا ہے۔
انہیں بتائیں کہ ہر انسان کی خوبی الگ ہوتی ہے
ہربچہ ہر کام میں بہترین نہیں ہو سکتا، اور یہ بالکل ٹھیک ہے،کسی اور کی صلاحیت اُس کے لیے خطرہ نہیں،جب بچہ یہ بات سمجھ لیتا ہے، تو وہ دوسری بچوں کومقابلہ نہیں بلکہ انفرادیت سمجھ کر دیکھتا ہے۔
غلطی کرنے دیں ۔ ڈانٹیں نہیں
بچے غلطیاں کریں گے، یہ نارمل ہے،غلطی کو ’’ناکامی‘‘ نہ سمجھائیں، ’’سبق‘‘ سمجھائیں،جو بچہ غلطی سے نہ ڈرے، وہ نئی چیزیں سیکھنے کی ہمت رکھتا ہے، اور یہی اصل اعتماد ہے۔
آپ خود بھی پُراعتماد بنیں
بچے وہی کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں،اگر آپ اپنے بارے میں اچھا بولیں، اپنی خامیاں قبول کریں، اور پرسکون رہیں،تو بچہ بھی یہی رویہ اختیار کرے گا،آپ کا رویہ ہی اُس کا سب سے بڑا سبق ہوتا ہے۔
مقابلہ ٹھیک ہے، موازنہ نہیں
بچے کو سکھائیں کہ وہ کل کے اپنے آپ سے بہتر بنے نہ کہ اپنے دوست سے زیادہ نمبر لائے۔
سوال یہ ہونا چاہیے"کیا تم نے آج کچھ نیا سیکھا؟نہ کہ"کس کے نمبر زیادہ آئے؟"
بچوں کو اپنے جذبات کے نام سکھائیں
جب بچےاپنے جذبات کوسمجھ لیتے ہیں،جیسے حسد، غصہ، شرمندگی، یا اداسی،تو وہ انہیں بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں،جذبات کو سمجھنے سے ہمت آتی ہے، اور ہمت سے اعتماد بنتا ہے۔
آخر میں بات بس اتنی ہے کہ بچے تب ہی پُراعتماد بنتے ہیں جب گھر کا ماحول محبت، حوصلہ اور سمجھ بوجھ سے بھرپور ہو۔ اگر والدین روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں انہیں ہمت دیں، ان کی کوشش کی قدر کریں، غلطیوں پر سیکھنے کا موقع دیں اور خود بھی مثبت رویہ دکھائیں
تو بچہ آہستہ آہستہ ایک مضبوط، پُراعتماد اور خود پر یقین رکھنے والا انسان بن جاتا ہے۔






















