این ایف سی کے افتتاحی اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت کے مطالبات سامنے آگئے۔
خیبرپختونخوا نے ساتویں این ایف سی میں سابق فاٹاکی شمولیت کامطالبہ کردیا، دہشتگردی کےخلاف جنگ کا حصہ 1 فیصدسےبڑھا کر 3فیصدکیا جائے،کے پی حکومت نےمطالبہ کیا ہےکہ صوبےکا مجموعی شیئر 14.62 فیصد سے بڑھا کر 19.62 فیصد کیا جائے۔
خیبرپختونخواحکومت نےکہاموجودہ این ایف سی آرٹیکل 160 سےمطابقت نہیں رکھتا، سابق فاٹاکی عدم شمولیت سے موجودہ این ایف سی آئینی طورپرمتنازع ہے،صوبہ سندھ اور خیبر پختوانخوا کی جانب سے صوبائی شیئر میں کمی کی مخالفت کی گئی۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی کے فارمولےمیں ترمیم کی سفارش کی گئی،گیس پرلگنے والی ایکسائز ڈیوٹی میں نظرثانی کی بھی سفارش کردی گئی،خیبر پختوانخوا کی ونڈ فال لیوی سے متعلق تنازعات حل کرنےکی تجویز ہے،کے پی نے این ایف سی اجلاسوں کیلئے ماہانہ شیڈول بنانے کا مطالبہ کر دیا۔
وفاق اورصوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم گیارہویں این ایف سی اجلاس کا افتتاحی سیشن کا آغاز ہو گیاہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگرارکان شریک ہیں،این ایف سی سےمتعلق مذاکرات کی حکمت عملی طے کی جائے گی،مختلف ورکنگ گروپس قائم کئے جانے کا امکان ہے۔






















