اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت فارن پالیسی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی کیلئے دائر درخواست پر چار رکنی لارجربینچ نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے واضح کیا کہ اوریجنل پٹیشن میں وطن واپسی کی استدعا موجود نہیں تھی، جبکہ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی ڈائریکشنز پر عمل نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے ت کیا اس حوالے سے کوئی مؤقف چیلنج کیا گیا؟ عدالت نے میڈیکل سہولیات سے متعلق امریکی حکام کے جواب پر بھی سوال اٹھایا، جس میں کہا گیا تھا کہ جیل میں سہولیات دستیاب ہیں مگر مرضی کے ڈاکٹر کی اجازت نہیں مل سکتی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ حکومت نے ویزا پراسیس سمیت تمام ممکنہ سہولیات فراہم کیں، تاہم پاکستان کسی دوسرے ملک کے جوڈیشل نظام میں مداخلت نہیں کرسکتا اور ڈاکٹر عافیہ چونکہ امریکی نیشنل ہیں، اس لئے معاملہ امریکی عدالتی دائرہ اختیار میں ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت کو بریف جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بیس جنوری تک ملتوی کردی۔






















