وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں روانڈا اور جمہوریہ کانگو کے صدور جمعرات کو واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کا خاتمہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی صدر روانڈا اور جمہوریہ کانگو رہنماؤں کی میزبانی کریں گے تاکہ اس تاریخی امن اور معاشی معاہدے پر دستخط ہو سکیں جس کی انہوں نے خود ثالثی کی ہے۔
اس سے قبل جون میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے وائٹ ہاؤس میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن اس کے باوجود خطے میں تشدد جاری رہا اور فریقین ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتے رہے۔
روانڈا کے صدر پال کاگامے نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا کہ کانگو کی حکومت معاہدے پر دستخط میں تاخیر کر رہی ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال یہ خطہ تین دہائیوں سے مسلح تنازعات کا شکار ہے جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں سال جنوری میں روانڈا کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ایم 23 نے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جن میں گوما اور بوکاوو جیسے اہم شہر شامل ہیں۔
روانڈا نے اپنے فوجی اقدامات کے خاتمے کو کانگو کی جانب سے تخریبی تنظیم ایف ڈی ایل آر کی سرگرمیوں کے خاتمے سے مشروط کیا ہے جو 1994 کی روانڈا نسل کشی سے منسلک ہے۔کانگو کے صدر فیلکس تشی سیکیدی کی ترجمان ٹینا سلاما کے مطابق صدر واشنگٹن جا رہے ہیں جہاںروانڈا کے ساتھ امن معاہدے کی توثیق کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے لئے ملک کی خودمختاری کا احترام اور روانڈا کے دستوں کا کانگوکے علاقوں سے انخلا ضروری ہے۔روانڈا کے وزیر خارجہ اولیویئر ندھونگیرہے نے بھی صدر کاگامے کے دورۂ واشنگٹن کی تصدیق کی ہے۔






















