بنگلہ دیش میں آرمی آفسران کے قتل عام میں بھارت اور حسینہ واجد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔
سن 2009 میں بنگلادیش رائفلز کی بغاوت کے تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق فروری 2009 میں بنگلا دیش رائفلز نے ڈھاکا میں آرمی افسران سمیت 74 افراد کو قتل کیا۔ اس قتل عام کو حسینہ واجد اور بھارت دونوں کی حمایت حاصل تھی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت بنگلا دیش اور بنگلا دیشی فوج کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔
بنگلا دیشی حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کا کہنا ہے کہ بنگلا دیشی عوام کو لمبے عرصے تک اندھیرے میں رکھا گیا۔ کمیشن کی رپورٹ نے آخر کار حقیقت آشکار کردی۔ 2009 میں حسینہ واجد کے اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ بعد بنگلا دیش رائفلز نے آرمی کے کئی سینیئر افسران کو قتل کیا تھا۔






















