امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دور کی پالیسیوں کو ایک اور بڑا دھچکا،امریکی عدالت کاوائس آف امریکا کے1042ملازمین بحال کرنے کی ہدایت کردی۔
امریکی وفاقی جج نے وائس آف امریکہ کی پیرنٹ ایجنسی کوحکم دیا ہے کہ وہ نیٹ ورک کے ایک ہزار 42 ملازمین، جنہیں جبری رخصت پر بھیجا گیا تھا،پیر تک واپس کام پر بحال کرے۔
جج نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت کیری لیک کے اقدامات کو "من مانی اور غیر معقول" قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات نیوز آؤٹ لیٹ کو مؤثر طور پر ختم کرنے کی کوشش تھے۔
امریکی عدالت کے جج رائس سی لیمبرتھ نے منگل کو اپنے فیصلے میں کہا کہ کاری لیک نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی قرار دیا کہ لیک نے کانگریس کی منشا کو مدنظر نہیں رکھا جو ایجنسی اور نیٹ ورک کو فنڈز مختص فراہم کرتی ہے، اور نہ ہی اس کے اثرات پر غور کیا کہ اسے مؤثر طور پر بند کرنے کے کیا نتائج ہوں گے۔
وائس آف امریکہ کے ڈائریکٹر مائیکل ابراموٹز نے فیصلے کے بعد کہا: “ہم جج لیمبرتھ کےفیصلے سے بہت خوش ہیں اور کام پر واپس جانے کا منتظرہیں،وائس آف امریکہ کی کبھی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے،”کاری لیک کےدورمیں ایجنسی نےابراموٹزکو شمالی کیرولائنامیں ایک چھوٹے شارٹ ویو ریڈیو سہولت میں منتقل کرنےکی کوشش کی تھی اورپھر انکارپرانہیں برطرف کرنےکی دھمکی دی تھی، ابراموٹزان لوگوں میں شامل ہیں جن کی پوزیشنز بحال کی جائیں گی،اگرلیمبرتھ کا فیصلہ برقرار رہا۔کاری لیک یا ایجنسی کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ماضی میں لیک نےلیمبرتھ کےفیصلوں کی اپیل کرنےکاکہا تھا اورجج پرالزام لگایا تھاکہ وہ بینچ سے قانون سازی کررہےہیں،وائس آف امریکہ کودوسری جنگ عظیم کےآغازمیں قائم کیا گیا تھا تاکہ نازی پروپیگنڈے کا مقابلہ کیاجاسکے،اس نےاتحادیوں کی شکستوں اورفتحوں کی خبریں دیں تاکہ ساکھ قائم رہے۔
جنگ کے بعد سرد جنگ کےدور میں امریکہ نے وائس آف امریکہ کو نرم طاقت کے طور پر وسعت دی تاکہ ان ممالک میں خبریں پہنچائی جا سکیں جہاں آزاد پریس بلاک، دھمکی زدہ یا مالی طور پر ناقابل عمل تھا،یہ ایک کثیر الجہتی جمہوریت میں صحافت کا نمونہ بھی پیش کرتا تھا،جس میں ناپسندیدہ خبریں اور اختلاف رائے کو شامل کیا جاتا تھا۔یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا ہے جس میں وائس آف امریکہ کو کم سے کم سطح تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
واضح رہےکہ عدالت کے اس فیصلے سے نیٹ ورک کےمستقل ملازمین کے کام پہ واپس لوٹنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جنھیں گھر بیٹھا کا گزشتہ تقریبا ایک سال سےتنخواہیں اور مراعات دی جارہی تھیں لیکن کنٹریکٹ ملازمین جن کے کاری کے فیصلے کےساتھ ہی کنٹریکٹ ختم کردئےگئےتھےاور وہ انھیں گھر بھیج کر نہ ہی تنخواہیں ادا کی جارہی تھیں نہ ہے کو کوئی مراعات دی جارہی تھی کی ملازمتوں پہ واپسی کی کوئی راہ نہیں نکلی ہے






















