سردیوں کے آغاز سے پہلے ایسا کیوں ہوتا ہے ہر طرف بیماریاں پھیلنا شروع ہوجاتی ہیں؟ جسے سب وائرل کا نام دے رہے ہوتے ہیں۔ کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی ہے۔۔؟ آج سے 10سال پیچھے جائیں تو کیا سردیوں کا آغاز اتنی بیماریوں کے ساتھ ہی ہوتا تھا؟ یا اب یہ وائرل ذیادہ ہونے لگا ہے؟ کیا موسم بدلنا انسانی صحت پر اتناگراں گزرتا ہے؟ نہیں۔۔
موسم بدلنا ایک قدرتی امر ہے جو کے صحت کو متاثر کئیے بغیر بھی بدل جایا کرتا تھا لیکن اب یہ موسم بدلنا انسان سے پورا خراج وصول کرتا ہے۔ کبھی سوچا ہے ایسا کیوں؟ آئیں وجہ جانتے ہیں۔
سردیوں کی آمد سے پہلے فضا میں دھند (اسموگ) کا ہونا ایک قدرتی عمل ہے جس سے فضا میں گرمائش ہوتی ہے اور اچانک سردی بڑھنے سے بیک وقت سرد اور گرم فضا کے ملنے سے دھند سی ہوجاتی ہے۔ کھلے میدانی علاقوں میں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے جہاں سبزہ ذیادہ ہو تومکمل سورج نکلنے تک دھند اپنی جگہ نہیں چھوڑتی یہ عمل ایک دو دن نہیں بلکہ کچھ ماہ تک رہتا ہے۔
جب اس دھند میں گاڑیوں کے سائنلنسر، فیکٹریوں کی چمنی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ایندھن کے زائد استعمال کی وجہ سے خارج ہونے والا دھواں بھی فضا میں شامل ہوجاتا ہے تو جو صاف فضا تھی وہ دھند اور دھویں کی وجہ سے آلودہ ہوجاتی ہے۔ دھند ایک قدرتی عمل ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی انسان اس سے بیمار پڑتا ہے لیکن اسی فضا میں دھویں کی ملاوٹ اسے انتہائی آلودہ کردیتی ہے۔ جس کی وجہ سے انسان بیمار پڑتا ہے اورٹریفک حادثات جنم لیتے ہیں۔
اس فضائی آلودگی سے انسان کےحلق اور ناک میں الرجی، جلد میں سوزش، آنکھوں میں سوزش، سانس لینے میں مشکل اور سرچکرانا جیسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ دھند کا سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جانے سے دمہ اور برونکائٹس کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پی ایم 2.5 کے لیے سالانہ اوسط حد 5 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تجویز کی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے نیشنل انوائرنمنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز نے پی ایم 2.5 کے لیے نسبتاً نرم حد 15 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر مقرر کی ہے۔
سن 2003ء سے 2020ء کے دوران پاکستان میں پی ایم 2.5 کا اوسط سالانہ ارتکاز 54.7 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار نہ صرف ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ حد سے تقریباً 11 گنا زیادہ ہیں بلکہ پاکستان کے نیشنل انوائرنمنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز کی مقرر کردہ حد سے بھی چار گنا زائد ہیں۔
پاکستان دنیا بھر کے آلودہ ترین ممالک میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس آلودگی میں غیرمعمولی اضافہ 2016 سے دیکھا گیا ہے اس کا مطلب پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی تیز رفتار شہری اورصنعتی توسیع کا ماحولیاتی نتیجہ ہے جو مناسب ماحولیاتی ریگولیشن اور جدید ایندھن کے معیار کو اپنائے بغیر حاصل کی گئی ہے۔ پاکستان میں آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر لاہور دوسرے پر فیصل آباد اور تیسرے نمبر پر کراچی کا شمار ہوتا ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی میں اضافہ گزشتہ دس سالوں میں تشویشناک حد تک بڑھا ہے جس کی مختلف وجوہات ہیں. اس کی روک تھام ازحد ضروری ہے۔جس کی وسیع پیمانے پر ذمہ داری ماحول بچاؤ ادارہ جات اور اس کے بعد عوام پر لاگو ہوتی ہے۔
ایسی صورتحال میں لوگ اپنی زیرِاستعمال گاڑی (کار، موٹر سائیکل، جیپ، ٹرک، بس، ویگن، سوزکی وغیرہ) کا انجن اور سائلنسر درست حالت میں رکھیں، جو پٹرول (جعلی، اسمگل شدہ) ذیادہ دھواں دیتا ہے وہ ہرگز استعمال نہیں کریں، گاڑی کی وقتاً فوقتاً ٹیونگ کرواتے رہیں، گاڑی اشد ضرورت کے وقت استعمال کریں تاکہ جتنا کم گاڑی کا استعمال ہوگا فضا میں کم سےکم دھواں شامل ہوگا. جس سے آلودہ دھند کی شدت میں کمی آئے گی۔ کم فاصلہ، پیدل یا سائیکل پر طے کریں۔ شجرکاری جیسی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔
ماحولیاتی اداروں کو چاہئے کے فیکٹریوں کو پابندکریں کے وہ ایسی چمنی لگائیں جو دھویں سےمضراثرات ختم کرکے فضا میں خارج کرے، اپنی مشینری درست حالت میں رکھیں، اینٹوں کے بھٹے میں زگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال کریں. جس سے ایندھن بیس فیصد کم خرچ ہوتا ہے اور چھوٹے ذرات، کاربن کااخراج بھی بالترتیب چالیس اور ساٹھ فیصد کم ہوتا ہے۔ اس طرح فضائی آلودگی میں واضح کمی آسکتی ہے اور نتیجتاً دھند کی شدت میں بھی کمی واقع ہوگی۔
آلودہ دھند میں اپنی مدد آپ کے تحت بچنے کی کوشش کریں علی الصبح اور رات میں انتہائی ضرورت کے وقت گھر سے نکلیں، چہرے پرکپڑے کا ماسک استعمال کریں، باہر نکلتے ہوئے آنکھوں میں کوئی مناسب چشمہ لگائیں۔ گھر آکر ہاتھ، پیر اور منہ دھوئیں اور آنکھوں میں پانی کے چھپاکے ماریں۔ طویل سفر کوشش کریں کےسورج کی روشنی میں طے کریں، بڑی شاہراہوں میں صبح سویرے اور شام کے اوقات میں گاڑی کی فل لائٹ جلا ئیں، تیز رفتاری سے پرہیز کریں اور سامنے سے آتی گاڑی دیکھ کر خبردار کرنے کیلئے اپنی گاڑی کاہارن بجا ئیں۔
یاد رکھیں! موسم کی تبدیلی قدرتی امر ہے لیکن اس میں انسانی نظام کے بگاڑ کے باعث جو آلودگی شامل ہورہی ہے وہ صرف انسانی صحت ہی نہیں بلکہ معاشرتی طور پر ہر چیز پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کے صحت کے ساتھ اشیاء کی حالت بھی وقت سے پہلے خراب ہورہی ہیں۔
فرد معاشرے کی اکائی ہے اگر بحیثیت فرد جو ذمہ داریاں اپنی ذات اور اطراف کیلئے لاگوہوتی ہیں ہم وہی ایمانداری سے ادا کرنے لگ جائیں توممکن ہے بہت کچھ تباہ ہونے سے بچ جائے۔





















