آپ اپنے بچوں کو کس طرح تربیت دیتے ہیں، یہی بات اس مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے جو آپ بطور معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جب آپ آواز بلند کرتے ہیں یا ہاتھ اٹھاتے ہیں تو آپ بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ وہ کون ہیں، بلکہ آپ انہیں خوف سے ردعمل دینا سکھا رہے ہوتے ہیں، جب بچہ بدتمیزی کرتا ہے تو یہ نظم و ضبط کی ناکامی نہیں ہوتی، بلکہ اکثر ایک اشارہ ہوتا ہے۔کہ وہ تھکا ہوا ہے، پریشان ہے، الجھن میں ہے یا صرف اپنی حدود آزما رہا ہے۔ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے لمحہ بھر رک کر اپنے آپ سے پوچھیں:
میرا بچہ مجھے کیا بتانے کی کوشش کر رہا ہے؟
روایتی تربیت اکثر سزا پر مبنی ہوتی ہے، مگر حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یوگا اور ذہن سازی (Mindfulness) پر مبنی مشقیں والدین اور بچوں کے تعلقات کو بہتر بناتی ہیں، ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں، جذبات پر قابو بڑھاتی ہیں اور رشتوں میں نرمی لاتی ہیں۔
ایک تحقیق “Parenting-focused mindfulness intervention reduces stress and improves parenting in highly-stressed mothers of adolescents” میں بتایا گیا کہ ذہن سازی پر مبنی تربیتی مداخلت نے ماؤں کے ذہنی دباؤ کو کم کیا، ان کے جذباتی ردعمل کو بہتر بنایا، اور والدین و نوجوان بچوں کے تعلقات مضبوط کیےخصوصاً بیٹیوں کے ساتھ۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تھکاوٹ یا ذہنی تناؤ کی وجہ سے والدین یا اساتذہ لاشعوری طور پر جسمانی سزا (corporal punishment) کا سہارا لے لیتے ہیں۔ چاہے وہ چیخ کر ڈانٹنا ہو، تھپڑ مارنا ہو یا سخت سرزنش کرنا، یہ بچے کے دل و دماغ پر گہرے منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
ایسی سزا بچوں کو بے چینی، خوف، تنہائی یا جارحیت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر، یہ والدین اور بچے کے درمیان اعتماد کو توڑ دیتی ہے۔ بہتر والدین اور بہترین اساتذہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں کو بدلیں۔
2019 کی ایک تحقیق Frontiers in Psychology میں بتایا گیا کہ آن لائن ذہن سازی پر مبنی والدین کی تربیت نے والدین اور بچوں میں جذباتی توازن، رویوں پر قابو اور ذہنی سکون میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ 8 سیشنز کے ایک پروگرام سے
- حد سے زیادہ ردعمل میں کمی،
- والدہ کی بے چینی اور ڈپریشن میں کمی،
- خود پر شفقت میں اضافہ،
- اور بچوں میں جارحانہ رویوں میں کمی
دیکھی گئی۔
میں سمجھتا ہوں یہ چند مفید ذہن سازی کے طریقے ہیں جو ہمیں نہ صرف بچوں کی بہتر تربیت میں مدد دیتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے رویّوں میں بھی سکون، تحمل اور شعوری پختگی پیدا کرتے ہیں۔
- پرسکون ذہن کے ساتھ واضح روزانہ اصول بنائیں
تربیت سے پہلے وضاحت ضروری ہے۔ بچے اس وقت بہتر محسوس کرتے ہیں جب اصول مستقل ہوں۔
طریقہ:
دن کا آغاز دو منٹ کی سانس کی آگاہی سے کریں۔ یہ اعصابی نظام کو پرسکون کرتی ہے اور آپ کو ردعمل کے بجائے تحمل سکھاتی ہے۔
پھر، روزمرہ کی توقعات نرمی مگر مضبوطی سے بتائیں:
مثال:
“ہم کھلونے نہیں پھینکتے۔ اگر غصہ ہے تو مجھے بتاؤ۔”
بچے کے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کی تائید کریں۔
“رونا بند کرو” کے بجائے کہیں:
“میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ناراض ہو، یہ ٹھیک ہے۔ آؤ، ہم ساتھ بیٹھ کر سانس لیتے ہیں۔”
یہ بچے کو محفوظ محسوس کراتا ہے اور جذبات کو سنبھالنا سکھاتا ہے۔
- گھر یا کلاس میں ‘امن کونا’ (Peace Corner) بنائیں
گھر یا کلاس میں ایک چھوٹا گوشہ رکھیں جہاں بچہ غصہ یا پریشانی میں جا کر پرسکون ہو سکے بطور سزا نہیں بلکہ پناہ کے طور پر وہاں نرم کشن، کتاب یا کوئی چھوٹا سا توجہ مرکوز کھلونا رکھیں۔
جب بچے کے جذبات بڑھ جائیں تو اس کی رہنمائی کریں کہ وہ اس گوشے میں بیٹھے، اور اگر ضرورت ہو تو اس کے ساتھ بیٹھیں۔
- ‘ڈسپلن روٹین’ ذہن سازی پر مبنی طریقے سے متعارف کرائیں
بچے نظم اور تکرار سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ذہن سازی پر مبنی یہ ڈھانچہ بچوں کو نرم مگر مستقل طریقے سے بہتر رویے سکھانے میں مدد دیتا ہے۔
مثال کے طور پر:
صبح:
“آج میں استاد کی بات غور سے سنوں گا۔”
شام:
(خود احتسابی) سکھائیں:
سوال کریں:
- “آج تم نے کیا اچھا کام کیا؟”
- “کس چیز میں بہتری کی ضرورت ہے؟”
یہ طریقہ بچے کو خوف کے بجائے اپنی سمجھ اور شعوری اختیار سے نظم و ضبط سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
- یاد رکھیں: ذہنی نظم و ضبط کا مطلب نرمی نہیں۔۔ بلکہ بیداری اور مستقل مزاجی ہے
یہ طریقے بچے کی اندرونی آگاہی بڑھاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بچہ غلطی کو خود درست کرنا سیکھ جاتا ہے ۔خوف سے نہیں، بلکہ سمجھ اور شعور سے اصل کامیابی یہ نہیں کہ بچہ سزا کے ڈر سے صحیح کام کرے۔۔۔
بلکہ یہ ہے کہ وہ خود صحیح کا انتخاب کرے اور ایک بہتر انسان بنے۔





















