روحانیت کے سفر میں بعض کتابیں ایسے چراغ کی مانند ہوتی ہیں جو اندھیروں میں روشنی بانٹتی ہیں اور دل و دماغ کو سکون عطا کرتی ہیں۔
"اسرار العارفین فی کشف الجمال" بھی ایسی ہی کتاب ہے، جس میں قادری سلسلے کی روشنی، اولیاء اللہ کے فیوض اور صوفیا کرام کے فلسفے کی خوشبو بسائی گئی ہے۔
یہ کتاب صرف لکھی نہیں گئی، بلکہ دل کی محبت، عقیدت اور روح کی گہرائیوں سے تراشی گئی ہے اور مصنفین ڈاکٹر خالد اقبال وڑائچ جمالوی قادری اور جابر سلطان میراں نے حضرت نوشہ بخت جمال رحمتہ اللہ علیہ کی حیات، احوال، فیوض اور کرامات کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری خود کو جھنگ شریف کے آستانے پر موجود محسوس کرتا ہے۔
صفحہ اُلٹتے ہی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف تاریخ نہیں، بلکہ محبت، عقیدت اور نسبتوں کا سفر ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں عقل رک جاتی ہے اور دل دیکھنے لگتا ہے۔
مصنفین نے پچیس سال کی محنت اور عشق کو الفاظ میں ڈھال کر ایک ایسا گلدستہ ترتیب دیا ہے جس کی خوشبو دل میں دیر تک بسی رہتی ہے۔
ہر سطر میں قادری سلسلے کی آبرو جھلکتی ہے اور ہر احوال میں باطنی فیضان کی روشنی نظر آتی ہے۔
یہ بتاتی ہے کہ اولیاء اللہ کی زندگی محبت، خدمت، تواضع اور فیضان کی زندہ تصویر ہے۔
کتاب میں روحانیت اور سائنس کا ملاپ بھی نظر آتا ہے۔
یہ انسانی شعور، کائنات اور روح کے تعلقات کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور قاری کو اپنی پہچان اور عرفانی سفر کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے خزانہ ہے جو روحانی راستے پر چلنا چاہتے ہیں کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ
نسبتیں کیسے فیض دیتی ہیں،
ولایت دلوں میں کیسے اُترتی ہے،
محبتِ الٰہی کہاں سے پیدا ہوتی ہے،
سلوک کا سفر کیسے طے ہوتا ہے۔
انسان اور کائنات کے راز کس طرح آپس میں جڑتے ہیں۔
کتاب میں جو باتیں سب سے زیادہ دل کو لگتی ہیں، زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ کی محبت میں کیسے ڈوبا جائے؟۔
شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کو بہت سادہ انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
مرید کون ہوتا ہے، اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں، اور آج کے دور میں بھی پیر و مرید کا رشتہ کیوں ضروری ہے؟۔
سلوک کے سفر میں مرشد کی رہنمائی کو کتاب میں غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، مصنفین نہایت حکمت سے یہ سمجھاتے ہیں کہ روحانی راستہ تنہا طے نہیں ہوتا، اسی نسبت کو بیان کرنے کے لیے سلطان العارفین کا قول کہ
ہر کہ اُو بے مرشدے در راہ شد،
اُو ز غولاں گمرہ و در چاه شد،
یعنی
جو کوئی بھی بغیر مرشد کے راستہ پر چلا
وہ شیطانوں کے دھوکے سے گمراہ اور ہلاک ہوا
یہ شعر نہ صرف روحانی سفر کی حقیقت کو واضح کرتا ہے بلکہ اس کتاب کا مرکزی پیغام بھی ہے کہ مرشدِ کامل کے بغیر معرفت کی راہیں دھندلا جاتی ہیں۔
ذکرِ الٰہی اور مراقبہ کیسے دل و دماغ کو پاک کرتے ہیں؟ اور ڈی این اے کی حیرت انگیز پیچیدگی، جینز، دماغ کے خلیوں اور کائنات کے نظام کو اللہ کی قدرت اور اولیاء کے کشف سے جوڑ کر قلمبند کیا گیا ہے۔
سلسلہ قادریہ جمالیہ جھنگی شریف کے تمام بڑے بزرگ (حضرت بابا نوشہ بخت جمالؒ سمیت) کا مختصر مگر دلنشین تعارف اور ان کی اہم تعلیمات بھی کتاب کا اہم حصہ ہیں۔
کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ تو بہت خشک علمی کتاب ہے، نہ ہی محض جذباتی باتوں کا مجموعہ ، دونوں کے درمیان خوبصورت توازن ہے اور آج کل کے نوجوان جو سائنس پڑھتے ہیں اور دین سے دور ہو جاتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب پل کا کام کرتی ہے۔
یہ کتاب آپ کے گھر کی لائبریری میں ضرور ہونی چاہیے، یہ تمام مسلمانوں کے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے۔
نوٹ: اس جائزے میں دی گئی رائے مصنف کی ذاتی ہے اور یہ اشاعت یا ویب سائٹ کی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتی۔






















