وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے سوا کوئی آپشن نہیں، دہشت گردی کا ہر حال میں خاتمہ کرنا ہو گا، کچھ جگہوں پر کوتاہیاں ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے، افغانستان جانے کی بات جس نے بھی غلط کی، ایم پی اے محمد جلال کے بیان کی تحقیق ہونی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ پانی بند کرنے سے متعلق جنید اکبر کا بیان غلط تھا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، کسی بھی اقدام سےعوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آؤٹ آف باکس سالوشن کی بات کرتے ہیں، آپریشن بنیان مرصوص کے 2 شہدا کو صوبائی حکومت نے پیکج دیا، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے شہدا کے خاندانوں کیلئے پنجاب کے برابر معاوضہ منظور کیا ہے۔
وزیراعلی کے پی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے شہدا کے اہلخانہ کو بھی پنجاب کے برابر معاوضہ ملے گا، نیشنل فنانس کمیٹی کے اجلاس میں جاؤں گا، نیشنل سیکیورٹی کے کسی اجلاس میں جانے سے انکار نہیں کیا، کور کمانڈر پشاورآئے تو یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق ہونا چاہیے، نیٹ پائیڈل پرافٹ کی مد میں وفاق نے ہمیں 2200 ارب روپے دینے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے کسی سے رابطہ نہیں۔



















