وفاقی آئینی عدالت نے ججز تبادلے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کیلئے مقرر کر دی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ 24 نومبر کو سماعت کرے گا۔ دوسری طرف ججوں نے انٹرا کورٹ اپیل کی وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کو ہی چیلنج کر دیا۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں ججز کا تبادلہ درست قرار دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججز نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔ ججز کی اپیل پر اب وفاقی آئینی عدالت میں 24 نومبر کو دن ساڑھے 11 بجے سماعت ہوگی۔
کاز لسٹ کے مطابق لارجر بینچ میں چیف جسٹس امین الدین، جسٹس حسن رضوی، جسٹس باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان، جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہوں گے۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ ججز نے انٹرا کورٹ اپیل وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے خلاف متفرق درخواست دائر کر دی ہے، جس میں انٹرا کورٹ اپیل کو سپریم کورٹ واپس بھجوانے کی استدعا کی گئی ہے۔
ججز کا مؤقف ہے کہ اپیل کو سائیسویں آئینی ترمیم کی وجہ سے آئینی عدالت منتقل کیا گیا ہے۔ ستائیسویں ترمیم آئین کے خلاف ہے۔ مقننہ ، ایگزیکٹو اور عدلیہ دونوں 1973 کے آئین کے تحت قائم کی گئیں۔ یہ آئین کے تحت تین ستون ہیں۔آئین میں اختیارات کی تقسیم اور حدود واضح ہیں۔ آئین میں ترمیم کا اختیار عدلیہ کو ختم کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ فیصلے اختیارات کی تقسیم پر واضح ہیں۔



















