دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کا HAL تیجس لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہونے کے بعد دفاعی ماہرین نے اسے بھارت کے مقامی جنگی طیارہ پروگرام کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کے دفاعی سازوسامان کی کوالٹی، فوجی تیاریوں اور برآمدی عزائم پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ضیغم خان نے حادثے کو بھارتی دفاعی پیداوار کے نظام میں موجود مسلسل ساختی کمزوریوں کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ائیر چیف پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ ملکی دفاعی مینوفیکچرنگ اور خریداری کے معیار فرنٹ لائن لڑاکا طیاروں کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
ضیغم خان کے مطابق طیارے کی کوالٹی اور ایروبیٹک شو کے لیے پائلٹ کی تیاری دونوں عوامل حادثے کا سبب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طیارے کی تباہی کے بعد تیجس کی عالمی مارکیٹ میں برآمدات اور خریداروں کی دلچسپی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی نظام کی کمزوریاں پوری دنیا کے سامنے آشکار ہوگئی ہیں، بھارت کی دفاعی صنعت کے کچھ حصوں میں کرپشن بھی ایک طویل عرصے سے موجود الزام ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) مسعود خان نے بھی حادثے کو بھارت کی ہوا بازی کی ساکھ کے لیے شدید نقصان قرار دیا، خصوصاً اس صورتحال میں جب دبئی ائیر شو میں 200 سے زائد جدید طیارے نمائش پر موجود تھے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کا حوالہ دیا جن میں تیجس طیارے سے تیل کا رساؤ دکھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق کسی قسم کا تکنیکی ردعمل سامنے نہ آیا اور حادثہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔






















