وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی گرایجوئیٹس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نوکریاں بھی اپنی شرائط پر حاصل کرسکیں۔
پنجاب یونیورسٹی فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام کانووکیشن سے خطاب وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی آئی ٹی گریجوایٹس کا محدود وسائل کے باوجود لاہور کی مارکیٹ میں 60فیصد شیئریقینا لائق تحسین ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی بنی نوع انسان کی تخلیق ہے اس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اسے سیکھ کر پاکستان کے مفاد میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے آنے سے نوکریاں کم نہیں ہو ئی بلکہ ان کی نوعیت بدلتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم اور سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ ہمارے طلبہ اپنی کمپنیاں بنانے کیلئے تیار ہو سکیں۔
وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں سافٹ ویئرٹیکنالوجی پارک بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے بیشتر اساتذہ بطور وائس چانسلراپنے فرائض انجام دے رہے ہیں جو ہمارے لئے باعث افتخار ہے۔
انہوں نے کہا کیو ایس رینکنگ میں پاکستان کے بڑے اداروں کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔ گولڈ میڈل اور ڈگریاں لینے والے طلباؤطالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک بادپیش کی۔ انہوں نے کہا کہ والدین دنیا کی واحد ہستی ہیں جوکسی غرض کے بغیر اپنے بچوں کی کامیابی کے لئے محنت اور دعا کرتے ہیں۔ طلباؤطالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے والدین کو بوجھ مت سمجھیں بلکہ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں، یہی کامیابی کی سیڑھی ہے۔
اس موقع پرسابق ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نویداے ملک، پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود،ڈین فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرور، رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام، شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، طلباؤطالبات اوران کے والدین نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر نوید ملک نے کہا کہ ڈگریاں اور میڈل حاصل کرنے والے طلباؤطالبات کے لئے آج سوچنے کا دن ہے کہ انہوں نے کیا حاصل کیاہے۔ طلبہ کو اپنی کامیابی کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے چند برسوں میں جو ترقی کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔
ڈاکٹر شہزاد سرور نے کہا کہ آج فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پہلا کانووکیشن ادارے کے تعلیمی سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اورہمارے لئے فخراور خوشی باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1988 میں سینٹر فار کمپیوٹر سائنس کے طور پر صرف دو درجن طلبہ کے ساتھ آغاز سے پنجاب یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ارتقاء تک اوراب فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حیثیت سے دو ہزار سے زائد طلبہ تک رسائی میں ادارہ ایک غیر معمولی سفر طے کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قابل، متحرک اورمحنتی اساتذہ کی بدولت ادارہ کیو ایس رینکنگ میں بہترپوزیشن حاصل کر رہا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے طلبہ کو گولڈ میڈلز اور ڈگریاں عطا ء کیں۔






















